چین میں فروخت ہونے والی دلہن کی پراسرار موت ہو گئی

لڑکی دو ماہ چین میں رہنے کے بعد کچھ بھی بولنے کے قابل نہ تھی بس ایک ہی بات کہتی تھی کہ " چین میں میرے ساتھ کیا ہوا یہ مت پوچھیں"۔ پاکستان واپس آںے کے چند ہفتوں پر وفات پا گئی

لاہور : چین میں فروخت ہونے والی دلہن کی پاکستان واپسی کے بعد پراسرار موت ہو گئی۔انڈیپنڈنٹ اردو میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی خاتون سمعیہ ڈیوڈ کو اُن کے خاندان نے ایک چینی شہری کو بطور دلہن فروخت کر دیا تھا۔سمیہ دو ماہ چین میں گزارنے کے بعد جب پاکستان پہنچیں تو ان کو پہچاننا مشکلہ ہو گیا۔سمیہ خوراک کی کمی کی وجہ سے اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ چلنا مشکل ہو گیا یہاں تک کہ ان کی بے ربط گفتگو کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔
سمیہ کے کزن پرویز مسیح کا کہنا ہے کہ خاندان والوں کے پوچھنے پر سمیہ صرف اتنا کہہ پاتیں کہ چین میں میرے ساتھ کیا ہوا یہ مت پوچھیں۔چین سے واپس آنے کے بعد سمیہ چند ہفتے ہی زندہ رہ سکی تھیں۔خاتون کی پر اسرار موت اس بات کا اشارہ دیتی ہیں پاکستانی خواتین خاص طور پر مسیحی خواتین کو چین میں بدسلوکی اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سمیہ کے کزن کا کہنا تھا کہ غریب لوگوں نے پیسے لے کر اپنی بیٹیاں بیچ دیں اور خریدار چین میں جو چاہیں ان خواتین سے سلوک کریں۔
ان خواتین سے کیا سلوک کیا جا رہا ہے یہ دیکھنے کے لیے کوئی وہاں موجود نہیں۔یہ ظلم کی ا نتہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ وفات پانے والی سمیہ کے بھائی نے بروکروں سے رقم لے لی اور بہن کو چینی شہری سے شادی پر مجبور کیا۔پادری کو پاکستان خواتی کی سمگلنگ میں ملوث افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کے شبے میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔خیال رہے کہ ہ پاکستان بھر سے 629 لڑکیوں اور خواتین کو چینی مردوں کی دلہن کے طور پر فروخت کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذرائع کے مطابق پاکستانی تفتیش کاروں نے اس حوالے سے ایک فہرست بھی مرتب کی ہے جس میں غریب اور کمزور ممالک کا استحصال کرنے والے اسمگلنگ نیٹ ورک کو توڑنے کا عزم بھی اختیار کیا گیا۔ اس فہرست میں 2018 کے بعد سے پا کستان سے چین اسمگلنگ ہونے والی خواتین کی تعداد کے بارے میں ٹھوس پیش کیے گئے ہیں۔تفتیش کاروں کے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف جارحانہ کاروائی کےبعد رواں سال جون کے بعد اس سلسلے میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 14 دسمبر 2019

Share On Whatsapp