PhD Student Suffering From ALS Decides To Stop Treatment, Donate Her Head For Medical Research

پی ایچ ڈی کی طالبہ نے اپنا علاج بند کر کے اپنا سر تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا

28 سالہ لوٹاو بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی  طالبہ ہے۔ مرنے کے بعد اُن کا سر طبی تحقیق اور دیگر اعضا دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے عطیہ کیے جائیں گے۔
داخلہ کے امتحان میں پہلی پوزیشن لینے بعد لو ٹاؤ نے 2015 میں پیکنگ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ہسٹری پروگرام میں داخلہ لیا تھا۔ کچھ عرصے بعد ہی انہیں اے ایل ایس نامی بیماری کی تشخیص ہوئی۔

یہ خطرناک بیماری  اعصاب کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے دماغی خلیے اور حرام مغز متاثر ہوتا ہے، جس کے بعد عضلات  کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ اس بیماری کے لاحق ہونے کے بعد لو ٹاؤ  بھی بستر کی ہو کر رہ گئیں۔ اس سال جنوری سے وہ مسلسل آئی سی یو میں ہیں۔
7 اکتوبر کو لوٹاؤ نے اپنے باپ کو کہا کہ وہ اپنا علاج بند کرا کر اپنے اعضا عطیہ کرنا چاہتی ہے۔
اپنی بات منوانے کے لیے لوٹاؤ نے بھوک ہڑتال بھی کر دی۔ اس کے بعد انہوں نے نرس کو اپنی وصیت لکھوائی۔
انہوں  نے لکھوایا کہ میرے مرنے کے بعد میرا سر طبی تحقیق کے لیے عطیہ کر دیا جائے، مجھے امید ہے کہ ایک دن اے ایل ایس کا علاج دریافت ہو جائے اور پھر انسانیت اس سے متاثر نہیں  ہوگی۔انہوں نے مزید لکھوایا کہ وہ اپنے دیگر اعضا انسانی زندگی بچانے کے لیے عطیہ کرنا چاہتی ہے۔
لوٹاؤ کے دوستوں نے اس کے علاج کے لیے ایک ملین یوان یعنی 1 لاکھ 50 ہزار ڈالر بھی جمع کیے لیکن لوٹاؤ کا کہنا ہے کہ اسے دوسرے لوگوں  کے پیسے نہیں چاہیے۔لوٹاؤ نے اپنی وصیت میں لکھوایا کہ اُن کی لاش کو جلا دیا جائے اور راکھ  دریائے یانگتسی میں بہا دی جائے، اس کی نہ آخری رسومات ہوں اور نہ ہی اس کا مقبرہ بنایا جائے۔انہوں نے مزید لکھوایا کہ  مہربانی کر کے مجھے خاموشی سے جانے دو، میں پیچھے کوئی نشان نہیں چھوڑنا چاہتی، میں ایسے جانا چاہتی ہوں جیسے میں دنیا میں تھی ہی  نہیں۔ لوٹاؤ نے جو آخری الفاظ لکھوائے وہ کچھ یوں تھے ”زندگی کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کتنا عرصہ زندہ رہتا ہے بلکہ اس کا مطلب کسی کی زندگی کی اچھائی ہے۔“

تاریخ اشاعت : بدھ 18 اکتوبر 2017

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں