آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانےوالوں کیخلاف کارروائی ہوگی

وہ دشمن عناصرجوفوج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کا حصہ رہے، ان کیخلاف30 دنوں کےاندر کاروائی ہوگی اوربڑی بڑی گرفتاریاں دیکھنےمیں آئیں گی، یہ کھلاڑی مقامی ہیں ان کو ہدایات باہر سے آرہی ہیں۔ سینئرصحافی کا تبصرہ

لاہور : سینئر صحافی صابر شاکر نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی، وہ دشمن عناصرجو فوج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کا حصہ رہے، ان کیخلاف 30 دنوں کے اندر کاروائی ہوگی اور بڑی بڑی گرفتاریاں دیکھنے میں آئیں گی، یہ کھلاڑی مقامی ہیں ان کو ہدایات اور پیشکش باہر سے آرہی ہیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کورکمانڈرز کانفرنس میں داخلی سیاست، داخلی سکیورٹی صورتحال، لائن آف کنٹرول، افغان صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں خاص طور پر آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانے کی مہم لانچ کرنے سے متعلق بات چیت کی گئی۔ کورکمانڈرزکانفرنس اتنی اہمیت کی حامل اورطویل دورانیئے پر مشتمل ہے کہ اس کی پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی بلکہ مناسب سمجھا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غور پریس کانفرنس کریں اور کانفرنس کے اہم فیصلوں سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورکمانڈرز کانفرنس میں کچھ ایسے فیصلے ہوئے جن کے اثرات آئندہ تین ماہ میں واضح دکھائی دیں گے جبکہ کچھ فیصلے کچھ دنوں میں نظر آجائیں گے، آئندہ دنوں پتا چلے گا کہ پاکستان سیاست اور داخلی سکیورٹی صورتحال کس طرف جائے گی۔
صابر شاکر نے کہا کہ زیادہ پیشگوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن وہ دشمن عناصر جو فوج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کا حصہ رہے، ان کیخلاف 30 دنوں کے اندر کاروائی دیکھنے میں آئے گی، بڑی بڑی گرفتاریاں دیکھیں گے۔یہ کھلاڑی مقامی ہیں ان کو ہدایات اور پیشکش باہر سے آرہی ہیں۔ مافیاز اکٹھے ہیں اور مافیاز اکٹھے ہوکر پاکستان کے سیاسی نظام کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورکمانڈرز کانفرنس میں طے کیا گیا ہے کہ مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ ہی رہیں گے۔وہی ہرصورت اپنی ملازمت کا تسلسل جاری رکھیں گے، اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے۔

تاریخ اشاعت : منگل 10 دسمبر 2019

Share On Whatsapp