لاڑکانہ میں ایڈز کے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ سرنج کا بار بار استعمال ہے،

ادویات کی غیر مناسب تشہیر کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، ہر 10واں شخص ہیپاٹائیٹس میں مبتلا ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ لاڑکانہ میں ایڈز کے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ سرنجوں کا بار بار استعمال ہے، ادویات کی غیر مناسب تشہیر کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، پاکستان میں اس وقت ہر شخص کو سالانہ 8 سے 10 انجیکشنز لگائے جاتے ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے، 95 فیصد انجیکشن غیر ضروری ہوتے ہیں، پاکستان میں 75 فیصد آبادی کا انحصار صحت کے نجی شعبہ پر ہے۔
پاکستان میں ہر 10واں شخص ہیپاٹائیٹس میں مبتلا ہے، 85 فیصد سرنجیں دوبارہ استعمال کی جاتی ہیں۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ مریض کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں85 فیصد سرنجیںدوبارہ استعمال کی جاتی ہیں جو انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ڈاکٹرز کو یورپ مدعو کیا گیا جس کا مقصد نوزائیدہ بچوں کے لئے پائوڈر ملک کا فارمولا لکھوانا تھا۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ مریضوں کے تحفظ کے سلسلہ میں یہ ہمیں معلوم کرنا پڑے گا کی مریض کو کن چیزوں سے خطرہ ہے، مریضوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لئے دنیا میں بہت تحقیقات ہو چکی ہیں، ہم اپنے ڈاکٹرز کو مریضوں کے تحفظ کے لئے تربیت دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے مضمون میڈیکل ڈگری میں پڑھایا جا رہا ہے اور ہر صوبے میں ہیلتھ میڈیکل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہیلتھ ریگولر اتھارٹی کا قیام ضروری ہے، یہ کمیشن اور اتھارٹی صحت اور طبی شعبہ کے معیارات کا تعین کرے گی۔ ہمارے ملک میں ڈاکٹرز کی مریضوں کے تحفظ کے حوالہ سے تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے، ہم نے کابینہ سے اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسلٹی ایکٹ کی منظوری لے لی ہے۔ ہمیں مریضوں کے تحفظ کے لئے سازگار ماحول والے ہسپتال اور طبی سہولیات مراکز کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے تمام ہسپتالوں کو اپنا معائنہ خود کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر ہم جلد مریضوں کے تحفظ کے لئے سازگار ماحول والے ہسپتالوں اور طبی سہولیات کے مراکزکا آغاز کریں گے۔

تاریخ اشاعت : پیر 2 دسمبر 2019

Share On Whatsapp