غصے میں تھا، اندر کے غصے کو باہر نکالا تھا، سوچا ہے دوبارہ ایسی تقریر نہیں کروں گا: وزیراعظم کی بلاول بھٹوسے متعلق اپنی تقریر پر رائے

کنٹینر سے میری ذات پر حملے کیے گئے، یہودی ایجنٹ بنایا گیا، سلیکٹڈ کہا گیا لیکن بحثیت وزیراعظم مجھے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی: تقریر کے حوالے سے سینئیر صحافی کے سوال پر وزیراعظم کا جواب

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹوسے متعلق اپنی تقریر پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گصے میں تھے اور تقریر مین انہوں نے اپنا غصہ باہر نکالا لیکن اب انہوں نے سوچا ہے کہ دوبارہ وہ ایسی تقریر نہیں کریں گے۔ سینئیر صحافی ارشاد بھٹی نے بتایا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم سے بلاول سے متعلق انکی تقریر بارے پوچھا تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ کنٹینر سے انکی ذات پر حملے کیے گئے، انہیں یہودی ایجنٹ بنایا گیا، انکے لیے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کیا گیا۔
تاہم وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہین احساس ہوا ہے کہ بحثیت وزیراعظم انہیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی اور اب وہ ایسی تقریر نہیں کریں گے۔ ارشاد بھتی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان مطمئن اور خوش تھے اور قہقہت لگا رہے تھے، وزیراعظم کسی بھی طرح پریشان نہیں لگے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے موٹروے کے افتتاح کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی نکل اتاری تھی، وزیراعظم نے بلاول بھٹو کے اس بیان کی نکل اتاری جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر کے سائنسدان بلاول کے اس بیان پر ہل کر رہ گئے ہیں۔ تاہم اب انہوں نے ایسا نہ کرنے کا سوچا ہے۔ ارشاد بھٹی نے مزید بتایا کہ انہوں نے جب وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا آپ کو بلاول سے متعلق وہ تقریر کرنی چاہیے تھی؟ اس پر عمران خان نے سوال کیا کہ بلاول کو سیاست کرتے کتنے دیر ہوگئی ہے؟ ایسے لوگ جن کی ایک صوبے میں حکومت ہو اور وہاں بجلی لگنے سے 30بندے مر جائیں وہ یہ کہے کہ ’’جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘ کیا یہ درست ہے؟۔ تاہم وزیراعظم نے کہا کہ اب وہ ایسی کوئی تقریر نہیں کریں گے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 21 نومبر 2019

Share On Whatsapp