دُبئی میں مقیم ایرانی خاتون سرکاری ملازم کو رشوت دیتے ہوئے پکڑی گئی

غیر مُلکی خاتون نے ڈرائیونگ ٹیسٹ میں پاس کرنے کی خاطر ڈرائیونگ ایگزامینر کو 2 ہزار درہم کی رشوت دی تھی

دُبئی : دُبئی میں مقیم ایک غیر مُلکی خاتون ڈرائیونگ ٹیسٹ میں پاس ہونے کی خاطر ایگزامینر کو رشوت دیتے ہوئے پکڑی گئی۔ 35 سالہ ملزمہ کا تعلق ایران سے بتایا جا رہا ہے۔ایگزامینر نے عدالت کو بتایا کہ اُسے اپنے واٹس ایپ نمبر پر ایک خاتون کی جانب سے پیغام آیا جو اُسے ایک کیفے میں ملنا چاہتی تھی۔ ایگزامینر نے خاتون کے بتائے گئے کیفے میں اُس سے ملاقات کی جہاں خاتون نے اُسے پیش کش کی کہ اگر وہ چند لوگوں کو ڈرائیونگ ٹیسٹ میں پاس کروا دے تو وہ اُسے اس کام کے بدلے میں 30 ہزار درہم سے 50 ہزار درہم کے درمیان رقم بطور رشوت دے گی اور یہ سارا معاملہ مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔
تاہم ایگزامینرنے اُس کی پیش کش ٹھُکرا دی تو خاتون نے یہ انکشاف کیا کہ اُس کے ڈیپارٹمنٹ میں موجود دوسرے لوگ بھی رشوت لے کر اُس کا کام کر رہے ہیں تو پھر وہ کیوں اس سے تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ ایگزامینر نے اُس کی کسی بات پر ہامی نہ بھری اور اگلے دِن اپنے سُپروائزر کو ساری بات سے آگاہ کر دیا۔ سُپروائزر نے اُس سے کہا کہ وہ خاتون کو اعتماد میں لینے کی خاطر کہے کہ وہ اس کی پیش کش قبول کرنے کو تیار ہے۔
کچھ عرصے بعد خاتون کی جانب سے ملزم کو واٹس ایپ پر پیغامات بھیجے گئے کہ وہ اُس سے ملاقات کرے تاکہ اُسے جن لوگوں کو ڈرائیونگ ٹیسٹ میں پاس کرانا ہے، اُن کے لیے رشوت کی رقم اُسے دے سکے۔ایگزامینر نے اپنے سُپروائزر کو ساری بات بتا دی، جس کے بعد پولیس کو بھی اس بارے میں اطلاع کر دی گئی۔ اگلے روز جب ملزمہ نے ایک کیفے میں ملاقات کے دوران ایگزامینر کو 2 ہزار درہم بطور رشوت اپنے پرس سے نکال کر دیئے تو منصوبہ کے مطابق وہاں تھوڑے فاصلے پر بیٹھے خفیہ پولیس کے اہلکاروں نے خاتون کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ایرانی خاتون کے خلاف مقامی عدالت میں 8 دسمبر 2019ء کو مقدمے کی سماعت شروع ہو گی۔

تاریخ اشاعت : پیر 18 نومبر 2019

Share On Whatsapp