تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی دفاعی برآمدات کا حجم 1ارب ڈالر تک جاپہنچا

جے ایف17 تھنڈر کو پاکستان کی دفاعی برآمدات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ پاکستان اور بھی بہت سا دفاع سامان فروخت کر رہا ہے جس کی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں: غیر ملکی خبررساں ادارے کا دعویٰ

اسلام آباد : تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی دفاعی برآمدات کا حجم 1ارب ڈالر تک جاپہنچا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال پاکستان کی دفاعی برآمدات کا حجم 1ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے اور جے ایف17 تھنڈر کو پاکستان کی ان دفاعی برآمدات میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ عالمی ادارے نکی ایشین ریویو لنک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال ایک بلین ڈالر کے دفاعی ساز و سامان کی فروخت کے حتمی ہدف کے ساتھ اپنے اسلحے کی برآمد کو بڑھانا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ در حقیقت پاکستان نے پہلے ہی اپنے اسلحے کی فروخت میں اضافہ شروع کردیا ہے، اس رپورٹ میں ایک سینئر سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے اس نے بتایا ہے کہ گذشتہ مالی سال اسلحے کی برآمدت 210 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔ جبکہ دو سال پہلے یہی برآمدات محض100 ملین ڈالر کی تھیں۔ اس سے پانچ سال قبل یہ برآمدات صرف 60 ملین ڈالر کی تھیں۔
عہدیدار نے زیادہ سے زیادہ ہتھیاروں کی برآمد کے اس بڑھتے ہوئے رجحان اور اس میں پاکستان کی خودکفالت کی مہم کو بھی سراہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس بارے میں ابھی تک کوئی عوامی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں کہ کس طرح کے ہتھیار برآمد کیے گئے یا کہاں کیے گئے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسلحے کی تیاری میں چین نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔
اس کی مثال جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے ہیں جو دونوں ممالک مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا ہے کہ "جے ایف 17 تھنڈر نے پاکستان کو خود کفالت کی بنیاد فراہم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ چین نے پاکستان کی ٹینکوں کی تیاری میں بھی مدد کی ہے ، چین نے جے ایف 17 منصوبے اور پاکستانی بحریہ کو جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی تعمیر میں مدد کے ذریعے مدد کی ہے۔ یاد رہے کہ2016 میں پاکستان نے میانمار کے ساتھ 16 جے ایف 17 تھنڈر جنگجو طیاروں کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اگرچہ معاہدے کی اصل قیمت کو عام نہیں کیا گیا تھا تاہم حکام نے نجی طور پر کہا ہے کہ یہ معاہدہ تقریبا 400 ملین ڈالر میں ہوا تھا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 14 نومبر 2019

Share On Whatsapp