پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی اپنے اندر اعلیٰ اخلاق کی ایک دنیا لیے ہوئے ہے، آپ ﷺ نے دشمنوں سے اپنے آپ کو صادق اور امین کہلوایا ، آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی امانت میں خیانت نہیں فرمائی

روئے زمین پر ایک ایسی مثالی فلاحی ریاست اور رول ماڈل معاشرہ قائم کیا جس میں سب کے حقوق مساوی تھے، تمام مذاہب کے ماننے والوں اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی تھی , ریاست مدینہ کے قیام کا مقصد صرف امت مسلمہ کی بھلائی نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد پوری انسانیت کی فلاح و بہبود تھا،یہ فلاحی ریاست ہر دور کے لو گوں کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے , محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پروزیر اعظم عمران خان کا پیغام

اسلام آباد ۔ : وزیر اعظم عمران خان نے محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر پوری ملت اسلامیہ کو بالعموم اور اہلیان وطن کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ ایسے مبارک مہینے ہماری زند گی میں بار بار آتے رہیں، آمین ۔ہفتہ کو عید میلاد البنی کے موقع پر قوم کے نام پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی زندگی اپنے اندر اعلیٰ اخلاق کی ایک دنیا لیے ہوئے ہے۔
آپ ﷺ نے دشمنوں سے اپنے آپ کو صادق اور امین کہلوایا اور تبلیغ اسلام اس وقت شر وع کی جب لوگوں نے انہیں صادق وامین تسلیم کر لیا تھا۔ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی امانت میں خیانت نہیں فرمائی۔ آپﷺنے دوسرے مذہب کے قوانین کو اس زمانہ میں تسلیم کیا جب ان کو تسلیم کرنے کا تصور کرنا بھی محال تھا، نہ صرف انہیں تسلیم کیا بلکہ ان پر عمل پیرا ہونے کی ضمانت بھی دی ۔
آپ ﷺنے اپنے حسن انتظام سے روئے زمین پر ایک ایسی مثالی فلاحی ریاست اور رول ماڈل معاشرہ قائم کیا۔ جس میں سب کے حقوق مساوی تھے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے اُن کے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی تھی۔ ریاست مدینہ کے یہ وہ روشن پہلو تھے جو اُس زمانے کی کسی ایک ریاست میں بھی رائج نہیں تھی.انہوں نے کہا کہ تاریخ انسانی کی پہلی فلاحی ریاست کا تصور سب سے پہلے اسلام ہی نے دیا۔
رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشد ین نے پہلی صدی ہجری کے اوائل میں اس تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ آج کی مہذب و تر قی یافتہ دنیا میں فلاحی ریاست کا جو اعلی سے اعلی تصور ہے وہ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل اس دور کے جاہلیت اورزوال پذیر انسانی معاشرے میں ریاست مدینہ کی صورت میں قائم کر کے دکھا دیا مزید بر آں اس اہم فیصلے کو خلفائے راشدین نے عدل و مساوات کی بنیاد پر چار چاند لگائے جو تاریخ عالم کا ایک سنہری باب ہے۔
ریاست مدینہ کے قیام کا مقصد صرف امت مسلمہ کی بھلائی نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد پوری انسانیت کی فلاح و بہبود تھا۔ یہ فلاحی ریاست ہر دور کے لو گوں کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نیک مقصد کے حصول میں کامیاب فرمائے اور اپنے روز وشب کو تعلیمات نبو یﷺ کی روشنی میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp