سی پیک کا واحد منصوبہ جسے حکومت نے چین سے قرضہ لینے کی بجائے خود اپنے پیسے سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا

وفاقی حکومت کی جانب سے سی پیک میں شامل ہزارہ موٹروے کے تیسرے فیز کراکرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن اپنے وسائل سے کی جائے گی

ایبٹ آباد : سی پیک کا واحد منصوبہ جسے حکومت نے چین سے قرضہ لینے کی بجائے خود اپنے پیسے سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا، وفاقی حکومت کی جانب سے سی پیک میں شامل ہزارہ موٹروے کے تیسرے فیز کراکرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن اپنے وسائل سے کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے سی پیک میں شامل شمالی علاقہ جات میں تعمیر کی جانے والی ہزارہ موٹروے کے آخری حصے کو چینی قرضے کی بجائے اپنے وسائل سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ہزارہ موٹروے کا آخری حصہ مانسہرہ تا تھاکوٹ کراکرم ہائے وے کا حصہ ہے جسے اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے اخراجات وفاقی حکومت نے کود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ہزارہ ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سی پیک منصوبہ کے تحت ہزارہ ایکسپریس وے ملکی ترقی میں سنگ میل ثابت ہو گی، 60 کلومیٹر منصوبہ کا افتتاح آئندہ چند ہفتوں میں ہو گا اور اسی منصوبے کا دوسرا حصہ جنوری 2020ء تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
مذکورہ منصوبہ میں دنیا کی جدید ترین چھ الگ الگ ٹنل اس منصوبہ کو چار چاند لگا رہی ہیں، 120 کلو میٹر ہزارہ ایکسپریس وے کا منصوبہ نہ صرف ہزارہ بلکہ ملک کی معیشت میں تبدیلی لیکر آئے گا۔ ہزارہ ایکسپریس وے ای 35 کا منصوبہ 131 بلین کی لاگت سے پاکستان کیلئے تیار ہونا بڑی خوشخبری ہے، یہ شاندار منصوبہ آنے والی نسلوں کیلئے گیم چینجر ہے، اس خطہ کے عوام کو بڑا ریلیف ملے گا، اس منصوبہ کو تین مراحل میں رکھا گیا جس میں حویلیاں تا مانسہرہ تک 40 کلو میٹر پر 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جس کا چند ہفتوں میں ملک کی اہم شخصیت افتتاح کرے گی، اس میں تین حویلیاں انٹرچینج، سجیکوٹ انٹرچینج اور مانسہرہ شیخ آباد انٹرچینج بنائے گئے جبکہ ایبٹ آباد انٹرچینج کیلئے تجویز زیر غور ہے جس کی ایک دو کلومیٹر کی پرپوزل تیار کی جا چکی ہے جس کی اراضی صوبائی اور تعمیر کے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کرے گی۔
بتایا گیا ہے کہ ہزارہ ایکسپریس وے پر 3007 مقامی اور 1500 چائینز لیبر کام کر رہی ہے، اس سے مقامی سطح پر روزگار ملنے سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے، حویلیاں ڈرائی پورٹ پر ویئر ہائوسز اور انڈسٹریل زون بنیں گے اور مانسہرہ میں ٹیکنیکل کالج کیلئے بھی زمیں ایکوائر کی جا چکی ہے، اس منصوبہ سے مستقبل میں یہاں بڑے کارخانے بھی بنائے جائیں گے اور حطار انڈسٹری زون کا بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ہوگا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ منصوبہ کو 40 چالیس کلو میٹر میں تقسیم کر کے تین مرحلہ رکھے گئے جس میں 47 پل ہیں اور 6 ٹنل شامل ہیں اور سروسز ایریا کی اراضی پر بھی کام تیزی سے جاری ہے، ایبٹ آباد شملہ ٹنل 17-35 اور دوسری 390 میٹر جبکہ مانسہرہ لساں نواب ٹنل ڈھائی کلو میٹر بنائی گئی ہے جس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ منصوبے کی تعمیر کے دوران متبادل اوور ہیڈ برجزز دیئے گئے جبکہ دوسرے فیز میں 15 کلومیٹر دشوار تھا جس کو این ایچ اے اور چائنیز کمپنی نے انتہائی محنت سے مکمل کیا اور کسی بھی مقام پر پہاڑوں پر بھرائی کی بجائے پل بنائے تاکہ معیار پر سمجھوتہ نہ ہو سکے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp