وزراء کا ایک گروپ حکومتی معاملے کو خراب کررہا ہے، سلیم صافی

خسروبختیار، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمراورکچھ دوسرے لوگ جان بوجھ کر حالات خراب کررہے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کچھ بھی ہوجائے ان کوان کا حصہ مل جائے گا۔ سینئر تجزیہ کار سلیم صافی کا تبصرہ

لاہور : سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ وزراء کا ایک گروپ حکومتی معاملے کو خراب کررہا ہے، خسروبختیار، شاہ محمود قریشی ، پرویز خٹک ، اسد عمر اورکچھ دوسرے لوگ جان بوجھ کر حالات خراب کررہے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کچھ بھی ہوجائے ان کوان کا حصہ مل جائے گا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عزت ہو، شہرت ہو ، اقتدار ہواور دولت ہو،و ہ اگر انسان نے خود کمائی ہو اور اس کوحاصل کرنے کیلئے قربانی بھی دی ہو، تو ان چیزوں کی قدر بھی بہت ہوتی ہے۔
لیکن اگر یہ سب کچھ کسی اور نے آپ دیا ہو، آپ کا خون پسینہ بالکل نہ بہا ہو۔تو پھر رویے بچگانہ ہوتے ہیں، انہو ں نے کہا کہ وزیراعظم ہوں یا وزراء ہوں، وہ سمجھتے ہیں جس طرح ہمارے لیے پارٹی بنائی گئی،لوگ شامل کروائے گئے، الیکشن کروائے گئے، الیکشن کے دوران اپوزیشن کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔جس طرح چیئرمین سینیٹ کے معاملے میں ہوا۔تو وہ شاید اس چیز پر مطمئن ہیں کہ یہ معاملہ بھی حل ہوجائے گا، لیکن ہم سمجھ رہے ہیں یہ معاملہ حکومت کے سامنے چیلنج ہے۔
لیکن وزراء سمجھتے ہیں یہ کام بھی ہوجائے گا۔ وزراء قسمیں اٹھاتے تھے کہ مولانا نہیں آئیں گے۔پھر جب مولانا کا مارچ چل پڑا تو قسمیں اٹھانے لگے کہ وہ آکر واپس چلے جائیں گے۔سلیم صافی نے کہا کہ اگر کچھ ہوتا ہے تو وزراء کا کیا جاتا ہے؟ وہ سمجھتے ہیں اس سارے معاملے کا فوری نتیجہ ان ہاؤس تبدیلی ہوسکتی ہے، خسروبختیار سمجھتے ہیں میں کون سا عمران خان کا بندہ ہوں، شاہ محمود قریشی سب سے زیادہ ان ہاؤس تبدیلی کے متمنی ہیں، وزراء کی دوکیٹگریزہیں، پرویز خٹک کو دیکھ لیں، ان پر پرویز خٹک بہت گرم ہیں، ان کو کھڈے لائن وزارت دے دی گئی۔
مجھے لگتا ہے کہ پرویز خٹک سمجھتے ہیں تبدیلی آجائے توبہت حصہ مل جائیگا۔ اسد عمر کو رسواکرکے وزارت سے فارغ کیا گیا۔اسد قیصر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنادیا گیا ، وہ وزیراعظم کے سامنے منہ نہیں کھول سکتے۔حکومت میں شامل کچھ لوگ جان بوجھ کر حالات خراب کررہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات وقت لینے کیلئے کررہے ہیں۔
میں نے پہلے ہی کہاکہ یہ کمیٹی معاملے کو خراب کرسکتی ہے۔مولانا اور عمران خان دونوں سمجھتے ہیں ۔بات کسی اورطرف سے ہورہی ہے۔حکومتی کمیٹی کو مولانا فضل الرحمان سنجیدہ نہیں۔سینئرصحافی سلیم بخاری نے کہا کہ وزراء کے غیرذمہ درانہ بیانات حکومت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اگر حکومت کو کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومتی وزراء ہوں گے۔سینئر تجزیہ کارحفیظ نیازی نے کہا کہ حکومتی وزراء پارلیمنٹ میں بھی سخت لہجہ اور زبان استعمال کرتے ہیں۔موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کا برا حال کردیا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp