Misbah's Affiliation With Islamabad United Expects Harsh Reaction From Franchises
The Services Of A National Team Chief Selector And Head Coach For One Franchise Were Declared Conflicts Of Interest By Other Franchises.

مصباح کے اسلام آباد یونائیٹڈ سے منسلک ہونے پر فرنچائزز کی جانب سے سخت ردعمل متوقع

قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی ایک فرنچائز کیلئے خدمات کودیگر فرنچائزوں نے مفادات کا ٹکراﺅ قرار دیا تھا

لاہور : ڈین جونز کی اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ کی حیثیت سے برطرفی کے بعد ان کی جگہ مصباح الحق کی بطور ہیڈ کوچ ممکنہ تقرری پر پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی دیگر فرنچائزوں نے اعتراض کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے گزشتہ روز ڈین جونز کو کوچ کے عہدے سے برطرف کرنےکا اعلان کردیا تھا تاہم ابھی تک نئے کوچ کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا ، عین ممکن ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے نئے کوچ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق ہوں گے۔
قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ممکنہ تقرری پر دیگر پانچوں فرنچائزوں نے شدید اختلاف کرتے ہوئے اسے مفادات کا ٹکراﺅ قرار دیا ہے۔ایک کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق پی سی بی کی جانب سے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بنائے جانے سے کئی ہفتوں قبل ہی مصباح اپنی سابقہ فرنچائز کا ہیڈ کوچ بننے پر آمادگی ظاہر کر چکے تھے اور انہیں پی سی بی کی جانب سے بھی گرین سگنل ملا تھا ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ایس ایل کے گزشتہ سیزن سے قبل مصباح اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے جسکی وجہ سابق مایہ ناز بلے باز خود تھے۔مصباح نے پہلے چوتھے سیزن میں کوچنگ سٹاف کے ساتھ منسلک ہونے پر رضامندی ظاہر کی تاہم اختتامی لمحات پر وہ اپنی بات سے مکر گئے اور کھلاڑی کی حیثیت سے لیگ میں شرکت پر اصرار کیا جس پر اسلام آباد یونائیٹڈ نے انکی اس ضد کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں خیرباد کہہ دیا تھا اور مصباح گزشتہ سیزن میں پشاور زلمی کی جانب ایکشن میں نظر آئے ۔
جب پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے مصباح کی فرنچائز کے کوچ کی حیثیت سے ممکنہ تقرری کے حوالے سے بات کی گئی تو انہوں نے نرالی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہو گا۔ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کے کام کے دوران مصباح الحق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی تنخواہ وصول نہیں کریں گے تاہم فرنچائزوں کو انکے اسلام آباد یونائیٹڈ سے منسلک ہونے پر بھی اعتراض ہے کیونکہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہوتے ہوئے اگر مصباح کسی پی ایس ایل فرنچائز کے ہیڈ کوچ بنتے ہیں تو یہ مفادات کا واضح ٹکراﺅ ہو گا۔
پی سی بی کو مصباح کی پی ایس ایل میں موجودگی کے حوالے سے شدید دباﺅکا سامنا ہے اور ابتدائی طور پر یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مصباح کو ڈرافٹ کے عمل کے دوران کھلاڑیوں کی سلیکشن کے عمل سے دور رکھا جائے تاہم فرنچائزوں کو ان کی اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈریسنگ روم میں موجودگی پر بھی تحفظات ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ اسلام آباد کی فرنچائز مصباح کی جگہ کسی اور کو کوچ کے عہدے پر تعینات کرے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے قومی ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کو مفادات کے ٹکراو¿ کے سبب پی ایس ایل کے ڈرافٹ میں شرکت سے روکدیا تھا کیونکہ وہ لاہور قلندرز کے ٹیلنٹ ہنٹ پرو گرام میں شریک ہوئے تھے۔یہ پہلا موقع نہیں ہو گا کہ قومی ٹیم کو ہیڈ کوچ پی ایس ایل کی کسی فرنچائز سے منسلک ہو بلکہ قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر 3 سال تک کراچی کنگز کے بھی ہیڈ کوچ تھے،کراچی کنگز کے باﺅلنگ کوچ اظہرمحمود بھی اس عرصے میں قومی ٹیم کے باﺅلنگ کوچ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے لہٰذا فرنچائزوں کے اعتراض کے باوجود مصباح کی تقرری میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آئےگا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp