عراق میں 25 اکتوبر کو شروع ہونے والی احتجاجی مظاہروں میں اب تک97 افراد مارے جا چکے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ

بغداد : عراق میں 25 اکتوبر کو شروع ہونے والی احتجاجی مظاہروں میں اب تک97 افراد مارے جا چکے ہیں۔ عراق کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی مشن( یو این اے ایم آئی) کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ عراقی سکیورٹی فورسز نے خاص طور پر بغداد میں ابتدائی مظاہروں کی نسبت 25 اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ابھی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور 4 نومبر تک 97 افراد مارے جا چکے ہیں۔
اس صورتحال میں سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کی طرف سے خطرناک اور کم خطرناک ہتھیاروں کے غیر قانونی استعمال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عراق کے لیے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ جینائن ہینس پلاسکہارٹ نے کہا کہ رپورٹ میں ان مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں تشدد کو روکنے کے لیے فوری قدامات کرنے کی ضرورت ہے اور احتساب کو ضرروی بنانے پر ایک بار پھر زور دیا۔ واضح رہے کہ 25اکتوبر سے دارالحکومت بغداد اور دیگر شہروں میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں کرپشن کے خاتمے، ملازمتوں کے مواقع کی فراہمی اور عوامی سہولیات میں بہتری کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 7 نومبر 2019

Share On Whatsapp