اسلام آباد میں سات سے آ ٹھ ہزار افراد کی رہائش گاہوں کے حوالے سے ن لیگ نے ذمہ داری لے لی

جے یو آئی کی کیٹگری اے کی قیادت کی گرفتاری کی صورت میں حکمت عملی کے تحت سیکنڈ قیادت کو دو شہروں لاہور اور اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی

اسلام آباد : : جمیعت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف احتجاج اور آزادی مارچ کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تشکیل دے دی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے لیے کارکنوں کو پلان دے دیا ہے۔جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پلان اے ، بی اور سی تیار کئے جن کے مطابق اصل مارچ لاہور سے شروع ہو گا جہاں انہیں نوازشریف گروپ کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اسلام آ باد پہنچنے کے لیے ن لیگ مکمل مالی اور افرادی قوت فراہم کرے گی ۔
اگر جمیعت علمائے اسلام (ف) کی اے کیٹیگری کی قیادت گرفتار یا نظر بند ہوتی ہے تو فضل الرحمان کی حکمت عملی کے تحت سیکنڈ قیادت کو دو شہروں لاہور اور اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔اہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ اسلام آ باد میں سات سے آ ٹھ ہزار افراد کے لیے رہائش گاہوں کے حوالے سے ن لیگ نے ذمہ داری لی اور اس کے لیے گیسٹ ہاؤسز سے لے کر فارم ہاؤسز مری کے ہوٹلز ، پرائیویٹ رہائش گاہوں اور ہاسٹلز کا بندوبست کیا گیا ہے۔
مارچ کی حکمت عملی کے تحت ان رہائش گاہوں پر بھی ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے لوگ تین سے چار روز پہلے یہ لوگ پہنچ جائیں گے ۔ جبکہ رہائش، کھانے پینے اور دیگر معامالات کے حوالے سے نوازشریف کے دو قریبی ساتھی تمام اخراجات اٹھائیں گے جن میں ایک سینیٹر اور ایک ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کا اہم کردار ہے ۔اب صرف پلان میں ایک معاملہ پر غور ہو رہا ہے کہ اگر پہلی اوردوسری پوزیشن کی قیادتیں نہ پہنچ سکیں تو اسلام آ باد کے اندر سے کون جلوس کو لیڈ کرے گا؟ اس حوالے سے نوازشریف کی قریبی ایک اہم شخصیت اور فضل الرحمان کے ایک قریبی شخص کو قیادت کا ٹارگٹ دیا جا سکتا ہے ۔

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp