میاں نواز شریف کی رہائی کی تاریخ بتا دی گئی

میاں نواز شریف31 مارچ 2020ء سے پہلے جیل سے باہرہوں گے،سیاسی سرگرمیوں میں شریک تو ہوں گے تاہم انداز بدلا بدلا سا ہو گا۔ سینئیر صحافی کا دعویٰ

اسلام آباد : : معروف صحافی خاور نعیم ہاشمی کا اپنے کالم "نواز شریف رہا ہو رہے ہیں" میں کہنا ہے کہ بعض دوسرے خاموش سیاسی مبصرین کی طرح میری صحافیانہ چشم بھی میاں نواز شریف کو 31 مارچ 2020ء سے پہلے جیل سے باہر آتےدیکھ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خاموش سیاسی مبصرین سے مراد پولیٹیکل انٹیلکچوئلز کا وہ گروپ ہے جسے عوام نہ تو نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اپنی نظریاتی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اخبارات میں ان کے تبصرے اور بیانات شائع ہوتے ہیں۔
پاکستان میں یک جماعتی نظام حکومت مسلط کرنے کا وہ منصوبہ جو برسوں پہلے سوچا گیا تھا اس پر پانی پھر چکا ہے۔یہ شعوری طور پر ہوا یہ یا غیر شعوری طور پر؟۔جمہوریت کو ٹریک سے اتر جانے کے خطرے سے خود حالات و واقعات نے بچایا ہے اوراس اہم کردار وزیراعظم عمران خان کے اپنے بھولے پن نے بھی ادا کیا۔نواز شریف رہا ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں بظاہر شریک تو نظر آئیں گے تاہم ان کا اندازِ سیاست بدلا بدلا ہو گا اور ہلکا پھلکا دکھائی دے گا۔
ان کے لہجے اور سوچ میں پہلے جیسا تکبر بھی نہیں ہو گا۔کینہ پروری میں کس حد تک تبدیلی آئے گی اس کا جواب کوئی نجومی بھی نہیں دے سکتا،خاور نعیم ہاشمی مزید کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو ہمیشہ مرکز سے دور رکھا گیا لیکن مستقبل میں وہ مرکزی سیاست میں محور دکھائی دیں گے۔مریم نواز کا بے نظیر بننے کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا،لیکن ان کی رہائی بھی دورنہیں ہے۔ن لیگ کے بعض لوگ جو مختلف مقدمات میں جیلیں کاٹ رہے ہیں اور نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ان کی رہائی یا بریت کی فی الحال تو مستقبل میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔اگر وہ کبھی جیلوں سے باہر آ بھی گئے تو غالب امکان ہے کہ ن لیگ کی سیاست میں ان کا مقام و مرتبہ وہ نہیں ہو گا جو ماضی میں تھا۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp