امریکا نے شام پر حملے کے لیے ترکی کو گرین سگنل نہیں دیا . امریکی وزیرخارجہ

صدر ٹرمپ نے امریکی فورسز کو تکلیف اور نقصان کی پیش نظردور کرنے کا فیصلہ کیا. امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو

واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اکتوبر ۔2019ء) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا نے شام پر حملے کے لیے ترکی کو گرین سگنل نہیں دیا . امریکی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ترکی کو قانونی سیکورٹی اندیشے ہیں پومپیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں امریکی فورسز کو تکلیف اور نقصان کی راہ سے دور کرنے کا فیصلہ کیا.
امریکی وزیر خارجہ نے داعش تنظیم کے نئے سِرے سے ابھرنے کے حوالے سے اندیشوں کو مسترد کر دیا‘انہوں نے کہا کہ ترکی اِس علاقے میں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے. امریکی وزیرِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں تاہم انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات کہ امریکہ نے ترکی کو عسکری کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی بالکل غلط ہیں.
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ترکی کی جانب سے کرد پیشمرگہ فورسز پر شام میں کیے جانے والے حملوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک غلط اقدام قرار دیا ہے اس سے قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ترکی کو سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے’خیال رہے کہ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے.
انقرہ کا کہنا ہے کہ اس نے سرحدی علاقے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاہم کردوں کا کہنا ہے کہ حملے میں شہری علاقوں کو ہدف بنایا گیا ہے ادھر ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ توپخانے اور فضائی کارروائی کے بعد اب زمینی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے. ترکی کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور یورپی یونین نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ بند کرے‘کرد پیشمرگاہ نے ترک فوج کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کارروائی کے آغاز کے بعد سے ان کی ترک فوج سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں.
ترکی کی جانب سے کارروائی کے آغاز کے بعد بدھ کو ترک طیاروں کی جانب سے شام کے کئی دیہات اور قصبوں پر بمباری اور گولہ باری کی گئی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں‘کرد افواج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے ہیں. ترک وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ترک فوج اور اس کے شامی اتحادی دریائے فرات کے مشرق کی جانب شامی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں‘ترکوں کے حامی ایک گروہ نے بتایا حملے کا آغاز تل ابیض نامی علاقے سے ہوا جو کرد پیشمرگاہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ترک فوج کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر کہا گیا ہے کہ عسکری کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے 181 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا.
اطلاعات کے مطابق ترک گولہ باری سے کوبانے اور قامشلی کے دیہات متاثر ہوئے ہیں آپریشن کے آغاز سے قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترک صدر نے کہا تھا کہ اس مشن کا مقصد ’جنوبی سرحد پر دہشت گردوں کی راہداریوں کو بننے سے روکنا اور علاقے میں امن لانا ہے.

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp