بھارتی جارحیت سے مقبوضہ کشمیر میں بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے. ترجمان دفترخارجہ

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 66 روز ہوچکے ہیں،وادی میں لوگوں کو ادویات، علاج، خوراک اور رابطوں کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے. ڈاکٹرفیصل

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اکتوبر ۔2019ء) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہاہے کہ کشمیریوں کے مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں لاکھوں لوگ محصور ہیں، کھلی جیل میں بند ہیں امریکی سینیٹرز کی آمد اور کشمیر کا دورہ خوش آئند ہے. ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 66 روز ہو چکے ہیں، لوگ بدستور بھارتی بربریت کے باعث مسائل کا شکار ہیںکشمیری عوام دواﺅں، علاج، خوراک اور رابطوں سے محروم ہے.
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی جارحیت سے مقبوضہ کشمیر میں بڑا انسانی بحران ہے، 3 امریکی صدارتی امیدوار بھی بھارتی اقدام کی مذمت کر چکے ہیں‘انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اٹھا رہا ہے، کشمیریوں کے مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں لاکھوں لوگ محصور ہیں، کھلی جیل میں بند ہیں امریکی سینیٹرز کی آمد اور کشمیر کا دورہ خوش آئند ہے، توقع ہے اقدامات سے کشمیر کی صورتحال سب کے سامنے آچکی ہے.
ترجمان نے کہا کہ کرتار پور راہداری افتتاحی تقریب کے لیے من موہن سنگھ کو دعوت دے دی، سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو باضابطہ دعوت نامہ بھیجا کرتار پور راہداری پر ترقیاتی کام وقت پر مکمل ہوجائے گا توقع ہے کرتار پور راہداری پر شیڈول کے مطابق امور طے ہوں گے. انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے چین کا سرکاری دورہ کیا ہے، دورہ چین کے دوران باہمی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوئی وزیر اعظم کی چینی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں، ہر شعبے میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق رائے کیا گیا ہے.
ترجمان نے کہاکہ چینی صدر نے کشمیر پر پاکستانی مو¿قف کی حمایت کی، چینی صدر نے کشمیر معاملے کو نامکمل ایجنڈا قرار دیا‘انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی بنائی تاکہ دوسرا مرحلہ تیزی سے آگے بڑھے، سی پیک کے اثرات ہر جگہ پہنچنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے سارک کانفرنس کے معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں، سارک کانفرنس کے انعقاد میں بھارت کی رکاوٹ ختم ہوگئی سارک کانفرنس کے جلد انعقاد پر آگاہ کیا جائے گا.
بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ ایران اور سعودی عرب کے امکانات ہیں، وزیر اعظم کے دوروں سے متعلق جلد پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا سری لنکا کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کی تعیناتی طریقہ کار کے مطابق ہوتی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی اور اسلحے کی دوڑ پر پاکستان کا موقف واضح ہے، پاکستان ایسی کسی بھی دوڑ میں شامل نہیں کوئی رافیل رکھے یا کچھ اور، پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے.
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہندوستان سے ہمیں کسی خیر کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 66 روز ہوچکے ہیں، کشمیریوں کو ادویات، علاج، خوراک اور رابطوں کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے،لوگ بدستور بھارتی بربریت کے باعث شدید مسائل کا شکار ہیں، بھارتی فورسز کے ہاتھوں حال ہی میں عبید فاروق لون اور عباس بھٹ شہید ہوگئے ہیں. ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی چینی قیادت سے ملاقاتوں میں ہر شعبے میں تعاون بڑھانے پراتفاق کیا گیا، چینی صدر نے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے اس کو نامکمل ایجنڈا قرار دیا، امریکی سینیٹرز کی آمد اور کشمیر کا دورہ خوش آئند ہے، پاکستان ہر سطح پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اٹھا رہاہے.
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ سارک کانفرنس کے انعقاد میں بھارت کی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے اور اس حوالے سے معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان سے خیرکی کوئی توقع نہیں، دنیاپرزوردیتے ہیں خطے کوہتھیاروں کی دوڑ میں نہ دھکیلاجائے.

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp