بچپن سے ہی فٹ بال کے کھیل سے عشق رہا، اسی شوق نے ریفری بنا دیا

سعودی عرب کی پہلی خاتون فٹ بال ریفری کی العربیہ ٹی وی سے گفتگو

جدہ : سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی شام الغامدی نے 4 اکتوبر کو جدہ شہر میں شروع ہونے والی خواتین کی پہلی فٹ بال لیگ میں میچ ریفری کے فرائض انجام دے کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ پہلی خاتون فٹ بال ریفری کا اعزاز حاصل کرنے والی شام نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انکو بچپن سے ہی فٹ بال کے کھیل سے عشق رہا ہے۔ اسی شوق نے انہیںفٹ بال کا ریفری بنا دیا۔
شام نے کہا کہ میں نے سیکھنے کے طویل سفر میں کھیل اور اس کے قوانین سے متعلق تمام تر تفصیلات حاصل کیں جو کھیل کے میدان میں بطور میچ ریفری معلوم ہونا چاہئیں۔ شام الغامدی نے واضح کیا کہ انہوں نے اس شعبے میں ماہر شخصیات کے تجربے سے بھی استفادہ کیا تاہم انہیں سرکاری سطح پر پذیرائی کیلئے مطلوب اجازت ناموں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شام کے مطابق انہوں نے جدہ ویمنز لیگ سے قبل دوستانہ میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دیے تا کہ اپنے ملک میں خواتین کی پہلی فٹ بال لیگ میں غلطیوں سے بچا جا سکے۔ معاشرتی سوچ کے حوالے سے شام کا کہنا ہے کہ سعودی معاشرہ ترقی اور پیش رفت کی منازل بڑی تیزی سے طے کر رہا ہے اور معاشرے کی جانب سے بڑے پیمانے پر سپورٹ موجود ہے تاکہ مقامی اور عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں سعودی پرچم کو بلند کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی ریفری کا اعزاز انکے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ شام الغامدی نے مزید کہا کہ کھیلوں کے میدان اور عالمی مقابلوں میں سعودی عورت کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے اور وہ کسی طور صلاحیتوں میں مردوں سے پیچھے نہیں بس انہیں سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ملک میں کھیلوں کے شعبے اور انتظامی میدان میں بھی خواتین کیلئے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ شام الغامدی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں فیفا اور سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کی منظور شدہ ریفری بننا چاہتی ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp