کیا سمندر سے ملنے والی باقیات اُسامہ بن لادن کی ہیں؟

60 سالہ خاتون کو سمندر سے ایسی سی پی (سی شیل) ملی جو القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے مشابہت رکھتی ہے

برطانیہ : : القاعدہ کے سابق سربراہ اُسامہ بن لادن سے متعلق 8 سال قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے یکم اور 2 مئی 2011ء کی درمیانی شب پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک کمپاؤنڈ پر کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا تھا۔ اور بعد ازاں یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اُسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر برد کر دیا گیا ہے۔
تاہم اب حال ہی میں برطانیہ کی رہائش پذیر ایک خاتون کو سمندر سے ایک ایسی سی شیل ملی ہے جو ہو بہو اُسامہ بن لادن سے مشابہت رکھتی ہے۔ اس سی شیل کے برآمد ہونے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کہیں یہ اُسامہ بن لادن کی باقیات تو نہیں ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ برطانیہ کے علاقے ایسٹ سسیکس میں 60 سالہ خاتون ڈیبرا اولیور کو سمندر سے ایسی سی پی (سی شیل) ملی جو القاعدہ کے سابق سربراہ اُسامہ بن لادن سے مشابہت رکھتی ہے۔
ڈیبرا اپنے 62 سالہ شوہر کے ساتھ 42 ویں شادی کی سالگرہ منانے کے لیے ساحل سمندر ونچلیسا پر موجود تھیں جہاں انہیں پانی سے ایک چھوٹی سی پی (سی شیل) ملی جسے وہ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ ڈیبرا نے بتایا کہ جب میں نے پہلی مرتبہ سی پی کو پانی میں جاتے دیکھا تو میں تذبذب کا شکار ہو گئی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ یہ کسی کی شکل سے ملتا ہے جس کے لیے میں نے سمندر میں تیرنا شروع کیا اور اسے پکڑنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔
بہت سی کوششوں کے بعد آخر کار جب میں نے شکل والی سی پی کو حاصل کرلیا تو اسے دیکھ کر میں بالکل چونک گئی تھی، میں نے اسے اپنے ہاتھ میں اُٹھایا تو غور کیا کہ یہ ایک مورت کے جیسی ہے جس کے سر پر ایک پگڑی ہے، تاہم زیادہ غور کرنے پر سمجھ آیا کہ یہ سی پی اُسامہ بن لادن سے مماثلت رکھتی ہے۔ میں نے سی پی کو دیکھ کر اُسامہ بن لادن کا نام لیا جب کہ دیگر لوگوں نے اس کی مشابہت ایران کے سابق سپریم لیڈر سے کی۔ ڈیبرا نے مزید کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اُسامہ بن لادن کو بھی سمندر برد کیا گیا تھا اور ہوبہو ان کی شکل والی سی پی بھی سمندر سے برآمد ہوئی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp