(ن)کے مشاورتی اجلاس میں آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے سفارشات تیار ،شہباز شریف کل نواز شریف کو پیش کرینگے

, شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں مجموعی صورتحال خصوصاًجے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا , , رہنمائوں نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا اور تجاویزدیں،اجلاس کے شرکاء کا معیشت کی ابتری اور مہنگائی میں اضافے پر تشویش کااظہار , حکومت کی ناقص اورغیر دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا ،عمران نیازی صبر کی تلقین کر رہے ہیں‘ صدر(ن) لیگ , مسلم لیگ(ن)عمران نیازی کے حسد اورانتقام کا نشانہ ہے،نواز شریف کا فیصلہ پارٹی کا فیصلہ ہوگا‘ احسن اقبال کی میڈیا سے گفتگو

لاہور : پاکستان مسلم لیگ (ن)کے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے تفصیلی غوروخوض کے بعد حتمی سفارشات تیار کرلی گئیں ،محمد شہباز شریف کل ( جمعرات ) کے روز کوٹ لکھپت جیل میں پارٹی قائد محمد نواز شریف کو پیش کر کے آئندہ کیلئے رہنمائی حاصل کرینگے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمائوں کا اہم مشاورتی اجلاس پارٹی صدر محمد شہباز شریف کی صدارت میں ماڈل ٹائون میں منعقد ہوا ۔
اجلاس میں راجہ ظفر الحق ،احسن اقبال، پرویز رشید، رانا تنویر، ایاز صادق ، مریم اورنگزیب، محمدزبیر، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، امیر مقام، شاہ محمد شاہ ، رانامشہود احمد خان سمیت دیگر شریک ہوئے ۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال خصوصاًجے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر رہنمائوں نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا اور تجاویزدیں ۔
اجلاس میں رہنمائوں نے معیشت کی ابتری اور مہنگائی میں اضافے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہمار ے دور کی ترقی کو ریورس گئیر لگادیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ موجودہ حکومت نے عوام کو سبز باغ دکھائے لیکن ہر روز مہنگائی کے بم برسائے جارہے ہیں ۔ حکومت کی ناقص اورغیر دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور عمران نیازی صبر کی تلقین کر رہے ہیں،حکومت ابھی تک ملک کو کوئی سمت نہیں دے سکی ۔
اجلاس میں تمام سفارشات کو نکات کی صورت میں مرتب کیا گیاجنہیں آج ( جمعرات )کے روز پارٹی صدر محمد شہباز شریف کوٹ لکھپت جیل میں پارٹی قائد محمد نواز شریف کو پیش کرینگے اور ان سے آئندہ کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی جائے گی ۔ اجلاس کے بعد احسن اقبال نے دیگررہنمائوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم بیرون ملک جا کر پاکستان کہ بدنامی سے باز نہیں آ رہے اور اس کی اجلاس میں مذمت کی گئی ہے۔
کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان مزید نیچے چلا گیا ہے ،پاکستان سے مزید کرپٹ ممالک کے سربراہان بیرون ممالک میں جا کر اپنے ملک کی بدنامی نہیں کرتے ۔ وزیراعظم بیمار ذہنیت کے مالک ہیں جو سیاسی مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے ،عمران نیازی واحد وزیراعظم ہے جو کرپشن کی داستانوں سنا کر سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دیتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کیس میں سیف سٹی اٹھارٹی کی فوٹیج سے حکومت کا جھوٹ ثابت ہو گیا،موجودہ حکومت نے پرویز مشرف کے بدترین مارشل لاء کے دور کوبھی پیچھے چھوڑ دیاہے ،اس دور میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف منشیات کے مقدمات نہیں بنائے گئے لیکن عمران خان نیازی کی حکومت کے دور میں ایسے مقدمات بھی بنائے گئے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف تمام کیسز جھوٹ پر مبنی ہیں اور اس کا ثبوت سابق جج ارشد ملک کی ٹیپ کی صورت میں سامنے آ چکاہے ۔
حکومت شاہدخاقان عباسی،مفتاح اسماعیل، خواجہ برادران، کامران مائیکل سمیت کسی کے خلا ف ریفرنس فائل نہیں کرسکی کیونکہ ان کیسز میں رتی برابر بھی صدات نہیں ۔ مسلم لیگ(ن)اس وقت عمران خان نیازی کے حسد اورانتقام کا نشانہ ہے،ان ہتھکنڈوں سے ہم کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہو رہے ہیں اور کارکنوں میں جوش بڑھ رہا ہے ۔ رائے عامہ کے حالیہ سروے کے مطابق ملک کے 80فیصدعوام ملک کے حالات سے نا امید ہیں حالانکہ ہم ملک کو نا امیدی سے امید کی طرف لائے تھے ۔
عمران خان نیازی کو صرف یہ فکر ہے کہ اپوزیشن کوکس طرح جیلوں میں ڈالوں ۔انہوںنے کہا کہ اجلاس میں پی ٹی آئی کے وزراء اور وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ کے بیانات کی مذمت کی گئی کیونکہ ان بیانات سے پر امن فضاء میں اشتعال انگیزی آ سکتی ہے۔ تمام جماعتیں جمہوری عمل کے ذریعے اپناردعمل ظاہر کرناچاہتی ہیں لیکن وزراء کے بیانات سے اشتعال پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔
جو وزراء آج بیانات دے رہے ہیں وہ ماضی کے اپنے پیرو مرشد عمران نیازی کے کلپ نکال کر دیکھیں کہ وہ اپنے جلوسوں اوردھرنے میں کیا کہاکرتے تھے اور اس سے ان کی سیاست تربیت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مہنگائی میں اضافے کی پرزور مذمت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہمار ی جب مولانافضل الرحمان سے ملاقات ہوئی تو ہماری خواہش تھی کہ ہمیں متحرک ہونے کیلئے کچھ وقت دیا جائے لیکن چونکہ انکی طرف سے اعلان ہو چکا تھا اس لئے نئی صورتحال پیدا ہوئی اور اس اجلاس میں اس پر تفصیلی مشاورت ہوئی ہے اوراس کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں جو محمد شہباز شریف پارٹی قائد محمد نواز شریف کو آج جمعرات کے روزکوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے دوران پیش کرینگے اور نواز شریف جو بھی اعلان کریں گے وہی مسلم لیگ کا حتمی فیصلہ ہوگا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 9 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp