راس الخیمہ: بدبخت بیٹے نے اُدھار لی گئی رقم واپس نہ کرنے پر باپ کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا

جج کی جانب سے والد کی خدمات اور قربانیاں گنوانے کے بعد بیٹے نے مقدمہ واپس لے لیا

راس الخیمہ : والدین جس مشکل اور محنت سے اپنے بچوں کو پروان چڑھاتے ہیں، یہ بات وہی جان سکتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اولاد کی انمول نعمت سے نواز رکھا ہے۔ تاہم اماراتی ریاست راس الخیمہ میں ایک ایسا نافرمان بیٹا بھی خبروں کی زینت بنا ہے جس نے اپنے باپ کے خلاف اس بات پر مقدمہ درج کروا دیا کہ والد نے کچھ عرصہ قبل اس سے کچھ رقم اس وعدے پر اُدھار لی تھی کہ وہ چند روز میں اُسے واپس کر دیں گے۔
لیکن اب والد کی جانب سے رقم کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ جب یہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو والد کا کہنا تھا کہ اُس نے بے شک اپنے بیٹے سے رقم لی تھی جو وہ مطلوبہ وقت پر واپس نہیں کر پایا۔ مگر اُس کے بیٹے نے رقم کی واپسی نہ ہونے پر اُس سے بدتمیزی کی، اُس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور گھر میں پڑے فرنیچر کی بھی توڑ پھوڑکی۔ جج نے دونوں باپ بیٹے کا موقف سُننے کے بعد بیٹے کو سمجھایا کہ اُس کے والد نے اُسے پروان چڑھانے کے لیے کتنی محنت کی ہو گی، اور اسے زندگی کی تمام آسائشیں اور سہولتیں بھی فراہم کیں۔
اس والد نے اُس کی پرورش کی خاطر اپنا قیمتی وقت، پیسہ لگایا۔ کیا اس کا صلہ اسے اس طرح دیا جائے کہ چند روپوں کے بروقت واپس نہ کرنے پر اس سے بدسلوکی کی جائے، یہاں تک کہ اُسے عدالتوں میں بھی گھسیٹا جائے۔ بچوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والدین کو ہر حال میں عزت و احترام دیں، کیونکہ یہ اسلام کی تعلیمات اور اماراتی سماجی روایات کا تقاضا ہے۔ جج نے بیٹے کو کہا کہ اگر وہ پھر بھی اپنے والد کو اُدھار دی گئی رقم واپس لینے کے لیے بضد ہے تو یہ یاد رکھے کہ ایسی صورت میں وہ اور والد دونوں زندگی بھر کے لیے بہت کچھ کھو دیں گے۔ جج کی نصیحتیں سُننے کے بعد بیٹا راہِ راست پر آ گیا اور اس نے اپنے والد کے خلاف رقم کی وصولی کے لیے دائر مقدمہ واپس لے لیا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 9 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp