پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرا اور آخری ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میچ ( کل ) کھیلا جائے گا

, سری لنکن ٹیم کو پاکستان کے خلاف سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل، مہمان ٹیم کی فول پروف سیکورٹی، میچ کیلئے تمام تر انتظامات مکمل، ٹی ٹونٹی سیریز کے آخریمیچ میں کامیابی کیلئے دونوں ٹیمیں پر عزم، کانٹے دار مقابلوں کی توقع

لاہور : پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کا تیسرا اور آخری میچ (ا آج) بدھ کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ میچ نائٹ ہوگا اور شام 6 بجکر 30 منٹ پر شروع ہوگا، مہمان ٹیم کو پاکستان کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے، آئی لینڈرز نے پہلے میچ میں پاکستان کو 64 رنز سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں 35 رنز سے مات دیکر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر رکھی ہے۔
اس سے قبل پاکستان کی ٹیم نے آئی لینڈرز کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں 2-0 سے شکست دی تھی، دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا ون ڈے میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا، سری لنکن ٹیم کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز سرفراز احمد قومی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ مہمان سری لنکن ٹی ٹونٹی ٹیم کی قیادت داسن شناکا سرانجام دیں گے۔مہمان ٹیم کیلئے کراچی کے بعد لاہور میں بھی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔
ہوٹل میں کسی غیر متعلقہ آدمی کو ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ دونوں ٹیمیں لاہور میں موجود ہیں اور تیسرے اور آخری ٹی ٹونٹی میچ کیلئے انہوں نے بھرپور تیاری کی ہے اور آخری ٹی ٹونٹی میچ میں کامیابی کے لئے دونوں ٹیمیں پرعزم ہیں اور دونوں ٹیموں نے میچ سے قبل قذافی سٹیڈیم میں خوب پریکٹس کی ہے اور اس اعتبار سے توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان تیسرا اور آخریٹی ٹونٹی میچ کانٹے دار ہوگا۔
شائقین کرکٹ کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تیسرے اور ا?خری ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ میں پاکستان کے علیم ڈار اور شوزاب رضا آن فیلڈ امپائر، پاکستان کے ہی آصف یعقوب تھرڈ امپائر ہونگے اور طارق رشید فورتھ امپائر ہوں گے جبکہ آسٹریلوی ڈیوڈ بون میچ ریفری کے فرائض سرانجام دینگے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ا?ئی سی سی) نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کیلئے ڈیوڈ بون کو میچ ریفری مقرر کیا ہوا ہے، ڈیوڈ بون پاکستان میں ا?کر بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، سری لنکا کی طرح دوسرے ممالک کی ٹیموں کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیئے۔

تاریخ اشاعت : منگل 8 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp