پاکستانی ماڈل کا قاتل سعودی عرب سے گرفتارکر لیا گیا

قندیل بلوچ قتل کا کیس کا شریک ملزم عارف واردات کے بعد سعودی عرب میں رُوپوش ہو گیاتھا

جدہ : پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کا قاتل اور مرکزی ملزم سعودی عرب سے پکڑا گیا۔ ملزم عارف 2016ء میں قتل ہونے والی اداکارہ و ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس میں سزا یافتہ تھا۔ قندیل بلوچ جس کا اصل نام فوزیہ امین ہے، اسے اس کے بھائی وسیم اور اس کے دوست عارف نے مِل کر 15 جولائی 2016ء کو قتل کیا تھا۔ واردات کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے ملزم سعودی عرب بھاگ گیا تھا اور وہاں کافی عرصہ سے رُوپوش تھا۔
گزشتہ دِنوں عدالت نے ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے واردات کے مرکزی ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا سُنائی تھی جبکہ اس کے مفرور دوست عارف کو بھی اس کی غیر حاضری میں یہی سزا سُنائی گئی تھی۔ جس کے بعد پولیس کی جانب سے عارف کی تلاش شروع کر دی گئی۔ اس معاملے میں انٹرپول کی مدد لی گئی۔ جس نے سعودی عرب میں موجود عارف کو گرفتار کر کے پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا۔
گرفتاری کے بعد ملزم عارف کو ملتان منتقل کر کے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں عدالت کے جج نے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ واضح رہے کہ اس مشہور مقدمے میں عدالت نے عالم دین مفتی عبدالقوی سمیت کیس کے دیگر ملزمان قندیل کے بھائی اسلم شاہین، حق نواز، عبدالباسط اور محمد ظفر حسین کو بری کردیا تھا۔ قندیل بلوچ سوشل میڈیا پر اپنی بے باک ویڈیوز کی وجہ سے بہت مشہور تھی۔
جس کا اس کے گھر والوں کو بہت رنج تھا۔ جب جولائی 2016ء میں قندیل بلوچ اپنے گھر والوں سے ملاقات کے لیے گئی تو اس کا بھائی وسیم جو اس کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کی وجہ سے ناراض تھا اس نے ساتھی عارف کی مدد سے قندیل کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا اور پھردونوں فرا ر ہو گئے تھے۔

تاریخ اشاعت : منگل 8 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp