مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 47 واں روز، پاکستانی وکلا نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

بھارتی آئین کے مطابق مودی سرکار کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ درخواست میں مؤقف

نئی دہلی : : مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے آج 47 واں روز ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف پاکستانی وکلا نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی وکلا کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بھارتی آئین کے مطابق مودی سرکار کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بھارتی حکومت نے کرفیو کا خاتمہ نہیں کیا۔
مودی سرکار بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات بھی نہیں مان رہی، بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل 32 کے تحت معاملے کا ازخود نوٹس لے۔ پاکستانی وکلاء نے درخواست میں مزید کہا کہ مودی سرکاری نے آئین کے مستقل آرٹیکل 370 کا غیر قانونی طور پر خاتمہ کیا، پاکستانی وکلاء کو معاملے پر پیش ہونے کی خصوصی اجازت بھی دی جائے۔ یہ درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کشمیریوں پر مظالم رکوا کر امن کو یقینی بنائے، بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کالعدم قرار دے۔ درخوست میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ 16 ستمبر کو بھارتی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جس کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو مقبوچضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دیا تھا۔
بھارتی عدالت نے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کو بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے 5اگست کو بھارتی آئین میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شق کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے ہی وادی میں کرفیو نافذ ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 20 ستمبر 2019

Share On Whatsapp