وائلنٹ پورنوگرافی کے مافیا پر ہاتھ ڈالنے پر وزیراعظم عمران خان کی اپنی حکومت چلی جائے گی

وائلنٹ پورنوگرافی میں اتنے طاقتور انٹرنیشنل مافیاز ملوث ہیں کہ اگر عمران خان نے اس کے اندر جانے کی کوشش کی تو ان کی اپنی حکومت نہیں رہے گی

اسلام آباد : : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ جب قصور میں زینب سے زیادتی کے بعد اس کا قتل کیا گیا تو میری اس کا پوسٹمارٹم کرنے والی ڈاکٹر سے فون پر بات ہوئی۔ وہ ڈاکٹر فون پر رو رہی تھیں اور سہمی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بارہا یہ کہہ چکا ہوں کہ یہ پورنو گرافی نہیں ہے یہ وائلنٹ پورنوگرافی ہے جس کے آخر میں متاثرہ شخص یا بچے کو مار دیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زینب کا پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے مجھے فون پر بتایا کہ میں نے اپنے چودہ سالہ کیرئیر آج تک کسی بچے یا بچی کے ساتھ ایسا سلوک اور ظلم و زیادتی ہوتے ہوئے نہیں دیکھی جو آج دیکھی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ اللہ کرے کہ کوئی ایسا وقت آئے کہ ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا جا سکے۔ لوگ بچوں کو باہر نہ بھیجنے کا کہہ رہے ہیں، اس میں تو جوان بچے بچیاں بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کام میں اتنے طاقتور انٹرنیشنل مافیاز ملوث ہیں کہ اگر عمران خان نے اس کے اندر جانے کی کوشش کی تو ان کی اپنی حکومت چلی جائے گی۔ انہوں نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ جو لوگ بیٹھے ہیں اور اپنے گینگ چلا رہے ہیں۔ عمران خان ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہ اتنے بڑے ریکٹ سے ہیں کہ وفاقی وزرا کا بھی بیان نہیں آیا، عثمان بزدار کا بھی کہیں کوئی بیان نہیں آیا۔
کسی وزیر یا مشیر کو ہمت نہیں ہوئی کہ کوئی اُس جگہ جا کر اُن کے بچوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کر لے ۔ جن بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان کی باقاعدہ فلمیں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے چھوٹا بچہ جس کے ساتھ زیادتی کی گئی اور جس کی ویڈیو ثاقب نثار کے سامنے پیش بھی کی گئی تھی اُس کی عمر محض چھ ماہ تھی۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود زینب قتل کیس کے وقت بھی ڈارک ویب کا تذکرہ کر چکے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 19 ستمبر 2019

Share On Whatsapp