عائشہ نذیر جٹ کو ترجمان وزیراعلیٰ بنائے جانے کی خبروں پر فرحان ورک کی تنقید

سوشل میڈیا پر ایک ایسی خاتون کا نام ترجمان پنجاب حکومت کے طور پر چل رہا ہے جن کی وجہ سے ہم تین جیتی ہوئی سیٹیں ہارے ہیں۔ فرحان ورک

لاہور : : ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل کے استعفے کے بعد ان کی جگہ خاتون ترجمان کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے لیے دو خواتین کے نام زیر غور تھے جن میں سے ایک عائشہ چودھری اور دوسری عائشہ نذیر جٹ تھیں۔ عائشہ نذیر جٹ کا نام ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر سامنے آنے پر پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم کارکن فرحان ورک پھٹ پڑے۔
انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ایسی خاتون کا نام ترجمان پنجاب حکومت چل رہا ہے جن کی وجہ سے ہم تین جیتی ہوئی سیٹیں ہارے ہیں۔ اگر ایسے لوگ ترجمان مقرر ہوئے تو ورکرز کے لیے بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا اب ورکرز کو آگے لائیں۔
جس پر صارفین نے بھی موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی کا تو اب بس نام رہ گیا ہے اصل حکومت تو اسی کرپٹ ٹولے کے پاس جا چکی ہے جو پچھلے 50 سالوں سے غریب عوام پر مسلط ہیں بس چہرہ عمران خان کا سامنے کر دیا گیا ہے۔
عائشہ نذیر جٹ کا شمار امیر ترین خواتین میں ہوتا ہے، گذشتہ عام انتخابات میں ان کے اندرون و بیرون ملک اثاثے 1 ارب 30 کروڑ سے زائد کے تھے۔انہوں نے اندرون ملک اثاثہ جات کی مالیت 3 کروڑ 20 لاکھ روپے بتائی جبکہ برطانیہ میں فلیٹ اور سعودی عرب میں کنسٹرکشن کمپنی میں وہ 18 کروڑ 83 لاکھ کی حصہ دار ہیں ۔ عائشہ نذیر جٹ کے پاس زیورات اور فرنیچر کی مالیت 40 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ۔
ان کے پاکستانی بنک اکاؤنٹس میں 2 لاکھ 79 ہزار روپے موجود ہیں۔ عائشہ نذیر جٹ کے سعودی عرب کے اکاؤنٹ میں 990 ریال اور برطانیہ میں دو جوائنٹ اکاؤنٹس میں ایک لاکھ 14 ہزار 468 پاونڈ ظاہر کئے گئے ۔ عائشہ نذیر جٹ کا تعلق وہاڑی سے ہے، وہ سابق رکن قومی اسمبلی چودھری نذیر احمد جٹ کی صاحبزادی ہیں ۔ عائشہ نذیر جٹ کے والد کا سعودی عرب میں کاروبار ہے۔
عائشہ نذیر جٹ نے 2012ء میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 162 سے عائشہ نذیر جٹ کو ٹکٹ جاری کیا تھا۔ تا ہم بعد میں ٹکٹ واپس لے لیا تھا،عائشہ نذیر جٹ نے اس سے قبل پی پی 232 گگو منڈی (بورے والا) سے مسلم لیگی امیدوار یوسف کسیلیہ کا 2016ء کے ضمنی انتخاب میں مقابلہ کیا تھا تاہم وہ اس الیکشن میں ہار گئی تھیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے سامنے آنے پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کافی نالاں ہیں کہ پارٹی کے لیے ایک بھی کامیابی نہ سمیٹ سکنے والی خاتون کو ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کا عہدہ دیا جا رہا ہے جبکہ پارٹی کے لیے دن رات کام کرنے والے کارکنوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے حالانکہ ورکرز زیادہ حقدار ہیں۔

تاریخ اشاعت : پیر 16 ستمبر 2019

Share On Whatsapp