This Crater In The Middle Of A Desert Has Been Burning For Nearly 50 Years

صحرا کے وسط میں واقع اس جہنمی گڑھے میں 50 سالوں سے آگ بھڑک رہی ہے


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
ترکمانستان کے صوبہ آخال میں واقع دروازہ گاؤں  کے نزدیک قدرتی گیس کا ایک بہت بڑا میدان ہے۔ یہ وسطی  ایشیا کے قرہ قوم صحرا میں واقع ہے۔ یہ میدان 1971 میں ٹوٹ کر ایک بڑے  گڑھے میں بدل گیا تھا۔ اس گڑھے کی چوڑائی  69 میٹر اور گہرائی 30 میٹر ہے۔اس گڑھے کو مقامی افراد جہنم کے دروازے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔  
ایس بی ایس سائنس کے مطابق کوئی نہیں جانتا کہ یہ گڑھا کب وجود میں آیا۔
یہ 1971 میں سویت ماہرین ارضیات کی نظروں میں آیا۔ ماہرین ارضیات کو یقین تھا کہ اس گڑھے میں تیل کے بڑے ذخائر ہیں۔ انہوں نے یہاں کھدائی شروع کی تو یہ بیٹھ گیا اوراس میں سے زہریلی گیسیں نکلنے لگیں۔
زہریلی گیسوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین ارضیات نے گڑھے میں آگ لگا دی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ آگ چند ہفتے بعد بجھ جائے گی۔ لیکن آج چار دہائیوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ آج بھی اس آگ کے بجھنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
تاہم نیشنل جیوگرافک کا کہنا ہے کہ ہے کہ یہ گڑھا کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ یہ 1960 کی دہائی میں بیٹھ گیا تھا۔ ترکمانستان کے مقامی ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اس گڑھے کی آگ بجھ گئی تھی لیکن 1980 کی دہائی میں اسے پھر آگ لگا دی گئی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں