بھارتی اور چینی فوج کے مابین لداخ میں جھڑپ

بھارتی فوج گشت پر تھی کہ ان کا چینی فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوگیا

لداخ : : پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے کے بعد بھارتی فوج نے چینی فوجیوں کے ساتھ بھی تصادم شروع کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چین اور بھارت کے فوجیوں کے مابین گذشتہ روز لداخ کے مقام پر جھڑپ ہوئی ۔ چینی فوج کو پانگ گونگ ٹسو جھیل کے قریب بھارتی فوجیوں کی موجودگی پراعتراض تھا۔ اس جھیل کا دو تہائی علاقے پر چین کی حکمرانی قائم ہے۔ بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان تصادم کا واقعہ مشرقی لداخ میں 134 کلومیٹر طویل پان گونگ ٹسو جھیل کے شمالی کنارے پر علی الصبح پیش آیا۔
بھارتی فوج کے ایک دستے نے گشت کے دوران چین کے علاقے میں دراندازی کی جس پر اس کا سامنا چینی فوج سے ہوا۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے اس علاقے میں بھارتی فوج کی موجودگی پر سخت اعتراض اُٹھایا۔ اس دوران بھارتی افواج کی جانب سے بلاوجہ اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اور دونوں افواج کے سپاہی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے تاہم انہوں نے اسلحہ کے استعمال سے گریز کیا، یہی وجہ تھی کہ اس جھڑپ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دونوں افواج نے علاقہ میں اپنی اپنی اضافی نفری طلب کرلی اور شام تک کشیدگی کا یہ سلسلہ برقرار رہا۔ تنازع کو حل کرنے کے لیے بھارت اور چین کے درمیان بریگیڈیئر سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ بھارتی فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات اکثر رونما ہوجاتے ہیں اور عموماً اس طرح کے معاملات کو فلیگ میٹنگ میں حل کرلیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت اور چین کا آپس میں اس علاقہ کی ملکیت کو لے کر کافی عرصہ سے ایک تنازعہ چلا آ رہا ہے جو کئی مرتبہ دونوں ممالک کے مابین جھڑپ کی وجہ بنتا ہے۔ خیال رہے کہ دو سال قبل اگست 2017ء میں بھی بھارت اور چین ، دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں تاہم بعد ازاں معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرلیے گئے تھے۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارتی فوج سرحدوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے انفرا اسٹرکچر پر توجہ دے رہی ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی کے جا رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp