دو بوڑھےاور بیمار سیاستدانوں میں سے کوئی ایک جیل میں مر گیا تو کیا ہو گا؟

بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے اسے 3 بار مرکز اور 5 بار سندھ میں حکومت دینا پڑی،فرض کرلیں 2 بیمار سیاستدانوں میں سے کوئی ایک جیل میں مر گیا تو کیابھٹو کی طرح اہم احساسِ گناہ مٹانے کے لیے 25 سال ان دونوں کی اولادوں کو حکومت دیں گے۔ سہیل وڑائچ کا کالم میں اظہارِ خیال

اسلام آباد : معروف صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ کا اپنے حالیہ کالم " THIS TOO SHALL PASS" میں کہنا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں نہ تو انقلابِ فرانس کا پر تو تھے اور نہ انہیں انقلابِ ایران کا مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔حکومت کو بڑی مشکل سے چند دوسری جماعتوں کی حمایت سے اکثریت ملی۔لیکن کام ایسے کیے جا رہے ہیں جیسے انقلاب آنے پر کیے جاتے ہیں۔کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ فرانس کی طرح یہاں بھی مخالفین کو گلوٹین پر چڑھا دیا جائے گا۔
کبھی یوں لگتا ہے کہ ایران کی طرح یہاں بھی انقلاب دشمنوں کی طرح سولی پر لٹکا دیا جائے گا۔چند نشستوں کی برتری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انقلاب جیسا فری ہینڈ مل جائے۔آپ جسے چاہیں اٹھائیں اور جسے چاہییں بند کر دیں یا پھر جب چاہیں منہ ہی بند کر دیں۔ایک کمزور و بزدل شہری ہونے کے باوجود میں اہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہتا ہوں کہ یہ ٹھیک نہیں ہو رہا۔
اگر جیل مینوئل سے روگردانی کرتے ہوئے اُنہیں کوئی سہولت نہیں دی جارہی تو وہ بھی غلط ہے اور اگر جیل مینوئل سے ہٹ کر کوئی رعایت دی گئی ہے تو وہ بھی غلط ہے۔سہیل وڑائچ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھٹو مارا گیا،پیپلز پارٹی کو طاقت، عدالت اور سیاست تینوں طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن نتیجہ کیا نکلا۔پھانسی کے بعد احساسِ محرومی سے بچنے کے لیے پیپلز پارٹی کو 3 بار مرکز اور 5 بار سندھ میں حکومت دینا پڑی۔
سندھ کی تالیفِ قلب کے لیے غلام مصطفیٰ جتوئی اور محمد خان جونجیو کو پنجاب میں نشستیں دلا کر وزیراعظم بنانا پڑا۔ممتاز بھٹو ، جام صادق اور علی محمد مہر جیسی کٹھ پتلیوں کو بھی نوازنا پڑا۔وفاق اور صوبے کے اِسی تنازع سے ایم کیو ایم نے جنم لیا اور کئی دہائیاں شہری سندھ میں تشدد و تخریب کی حکمرانی رہی۔پیپلز پارٹی کو طاقت میں آنے سے روکنے کے لیے یہ ایک اچھی چال بھی تھی۔
سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ فرض کر لیں دو بوڑھے اور بیمار سیاستدان میں سے کوئی ایک جیل میں مر گیا تو کیا پھر بھٹو کی طرح اہم احساسِ گناہ مٹانے کے لیے 25 سال ان دونوں کی اولادوں کو حکومت دیں گے۔اور اسی گھن چکر میں پھنسے رہیں گے۔بہتر ہے کہ قانون اور تہذیب کی حدود میں رہیں، نہ کسی کو مظلوم بننے دیں اور نہ خود کو ظالم کہلوائیں۔قانون اور تہذیب میں رہیں گے تو نہ آپ پر انگلی اٹھے گی نہ آپ کسی پر انگلی اٹھا سکیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 12 ستمبر 2019

Share On Whatsapp