مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے بن قاسم انڈسٹریل پارک اور کورنگی کریک انڈسٹریل پارک کے مقامی سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات

, خصوصی اقتصادی زونز میں ٹیکس وصول کرنے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد ۔ : وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد سے بن قاسم انڈسٹریل پارک اور کورنگی کریک انڈسٹریل پارک کے مقامی سرمایہ کاروں کے وفد نے خصوصی اقتصادی زونز میں ٹیکس وصول کرنے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایف بی آر کے چیئرمین سید شبر زیدی اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم کے مشیر نے خصوصی اقتصادی زونز کو فراہم کردہ ٹیکس مراعات پر روشنی ڈالی۔ ان مراعات میں کسٹم ڈیوٹی سے ایک بار استثنٰی اور ان زونز میں پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر ٹیکسوں کی چھوٹ شامل ہے۔ مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام سرمایہ کاروں کو 10 سال کے لئے ٹیکس چھوٹ بھی دے رکھی ہے جو 30 جون 2020 تک ان خصوصی اقتصادی زونز میں پیداوار شروع کریں گے۔
مشیر تجارت رزاق داؤد کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس مراعات کے علاوہ موجودہ حکومت نے خصوصی اقتصادی زونز میں جدید ترین انفراسٹرکچر مہیا کرکے سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے اسٹریٹجک فیصلہ لیا ہے تاکہ وہ جلد سے جلد تجارتی پیداوار کو شروع کرکے قومی معیشت میں حصہ ڈال سکیں۔ میٹنگ کے دوران سرمایہ کاروں نے ایف بی آر سے ٹیکس استثنیٰ سرٹیفکیٹ بروقت جاری کرنے سے متعلق امور اٹھائے جو نئے سرمایہ کاروں کے ذریعہ سرمایہ کاری کے فیصلے لینے میں تکلیف اور تاخیر کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے چیئرمین ایف بی آر نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ وہ ایف بی آر میں ایک فوکل پرسن نامزد کریں گے جو سرمایہ کاروں سے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں درپیش کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئے رابطہ کرے گا۔ وزیر اعظم کے مشیر نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ خصوصی اقتصادی زونز میں ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کریں جن میں ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ ، آئی ٹی سامان ، لاجسٹک اور آٹوموبائل شامل ہیں تاکہ ان کی سرمایہ کاری پر زیادہ منافع مل سکے۔
انہوں نے حکومت پاکستان کی مرکزی کوآرڈینیشن ایجنسی کی حیثیت سے بی او آئی کی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف منصوبوں کے حوالے سے ٹیکس لگانے سے متعلق تمام معاملات حل ہوجائیں گے اور بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں اور ایف بی آر سمیت سرکاری محکموں کے مابین ایک پل کے طور پر کام کرے گا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 ستمبر 2019

Share On Whatsapp