دفعہ 370آئین کی مستقل شق ہے جسے یکطرفہ طورپر ختم نہیں کیاجاسکتا ، سابق جج بھارتی سپریم کورٹ

, بھارت میں حکومت اورعدلیہ آئین اور جمہوریت دونوں کو کشمیریوں کے خلا ف ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے، کشمیر بارے سیمینار سے مقررین کا خطاب

کرناٹکہ : بھارتی ریاست کرناٹکہ میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ایک سیمینار کے مقررین نے جموںوکشمیر کو ایک جیل خانے میں تبدیل کرنے پر بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بھارت نے کشمیری عوام کے خلاف جنگ مسلط کر رکھی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی لیڈر کویتا کرشنن نے ’’کرناٹکہ میں ’’آئین ،جمہوریت اور جموںوکشمیر‘‘کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال معمول پرآنے کے بھارتی حکومت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کردیاگیا ہے ۔
انہوںنے اپنے کشمیر کے حالیہ دورے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ بھارت نے دفعہ 370کو منسوخ کر کے کشمیریوں سے اپنا تعلق ختم کردیا ہے اور اس بارے میں کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو اور سخت پابندیاں عائد ہیں اور وہاں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔
انہوںنے کشمیری خواتین کو تجارتی جنس کے طورپر گفتگو پر بھی شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وی گوپالہ گائوڈا نے کہاکہ عدالت عظمیٰ نے واضح کردیا ہے کہ دفعہ 370آئین کی مستقل شق ہے جسے یکطرفہ طورپر ختم نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوںنے کہاکہ متعلقہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر اس دفعہ میں ترمیم ممکن نہیں ۔ دلت سنگھرش سمیتی کے لیڈر موہن راج نے کہاکہ دفعہ 370کی منسوخی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت دستور کا احترام نہیں کرتی ۔ ایڈووکیٹ مالاویکا پراساد اورتنویر اجیسی نے کہاکہ بھارت میں حکومت اورعدلیہ آئین اور جمہوریت دونوںکو کشمیریوںکے خلا ف ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے ۔

تاریخ اشاعت : پیر 9 ستمبر 2019

Share On Whatsapp