Turkish Beekeeper Enlists Thieving Bears As Honey Testers

ترکی کے مگس بان نے شہد چرانے والے ریچھ کو باقاعدہ شہد چکھنے کا فریضہ سونپ دیا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

ابراہیم سیدیف  کا تعلق ترکی سے ہے۔ وہ  ترکی کے بحیرہ اسود کے علاقے کے ایک تجربہ کار مگس بان ہیں۔کچھ عرصے سے وہ ایک شہد چرانے والے ریچھ سے کافی پریشان تھے تاہم انہوں نے  اس چور ریچھ کو  باقاعدہ شہد چکھنے والے  ریچھ کا درجہ دے دیا ہے۔
ایگریکلچر انجینئر اور مگس بان ابراہیم سیدیف چار مہینوں سے شہد چرانے والے ایک ریچھ سے نپٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تاہم یہ ریچھ کسی بھی طریقے سے اُن کے قابو نہیں آیا۔
انہوں نے شہد کے چھتوں کو سٹیل کےپنجروں میں بند کیا تو ریچھ نے پنجرہ توڑ کر شہد حاصل کر لیا۔ ابراہیم نے  چھتوں  کے نیچے سیمنٹ کی بنیاد بنائی تو ریچھ نے یہ بنیاد ہی کھود دی۔ انہوں نے چھتوں کو اونچائی پر رکھا تو  ریچھ اونچائی پر ہی چڑھ گیا۔ تنگ آ کر انہوں نے ریچھ کو شہد چرانے روکنا ہی چھوڑ دیا۔
  اس ماہ کے شروع میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ  وہ ریچھ کو روکیں گے نہیں بلکہ ریچھ کی شہد کھانے کی صلاحیت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے ریچھ کو باقاعدہ شہد چکھنے والے  ریچھ  کا درجہ دے دیا۔ انہوں نےترکی کے شہر طرابزون میں واقع  اپنے فارم  پر  شہد چکھنے کا ایک ڈیسک بنا دیا۔ ابراہیم اس ڈیسک پر مختلف اقسام کے شہد رکھ دیتے ہیں۔
ڈیسک کے قریب چند اعلیٰ قسم  کے نائٹ ورژن کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ریچھ رات کو ڈیسک کے پاس آتا ہے اور کیمروں کے سامنے شہد کو چکھتا ہے۔ابراہیم ریچھ کو کنٹرول کرنے کے لیے چیری  کا مربہ بھی پیش کرتے ہیں۔ اس ساری مشق سے ابراہیم کو اپنے شہد کے بارے میں غیر متعصبانہ  ریٹنگ مل جاتی ہے۔
ابراہیم نے بتایا کہ وہ شہد کی ٹرے اور میز کا مقام بدل دیتے ہیں۔
ریچھ  ہر بار ہی انزر شہد پہلے کھانا شروع کرتا ہے، جو کوالٹی میں بہترین اور  کافی مہنگا ہوتا ہے۔
انزر شہد 90پھولوں کے رس سے بنایا جاتا ہے۔ یہ پھول  انزر سطح مرتفع کے پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کا اعلی ترین اور مہنگا ترین شہد  سمجھا جاتا ہے۔ کچھ ذرائع کے مطابق اس شہد کے ایک کلوگرام کی قیمت 300 ڈالر تک ہوتی ہے۔
ابراہیم نے مقامی رپورٹروں کو بتایا کہ پچھلے کچھ سالوں سے وہ شہد چرانے والے ریچھ کےہاتھوں 10 ہزار ڈالر کا نقصان اٹھا چکے ہیں لیکن چور ریچھ کو شہد چکھنے کا فریضہ سونپ کر انہیں یہ نقصان محسوس نہیں ہوتا۔


تاریخ اشاعت : جمعہ 6 ستمبر 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں