شکر ہے جیفری اسپٹن کاجنسی غلام بننے سے بچ گئی‘ناؤمی کامپبیل

ارب پتی سرمایہ کار سے 18 سال قبل اپنی 31 ویں سالگرہ پر ملی تھی‘برطانوی سپر ماڈل

نیویارک : رواں ماہ 10 اگست کو سامنے آنے والے امریکی ارب پتی سرمایہ کار جیفری اپسٹن کے سیکس اسکینڈل میں برطانوی شہزادے اینڈریو کا نام آنے سے تہلکہ مچ گیا تھا۔یہ کیس اس وقت عالمی سطح پر ایک سامنے آیا جب کیس کے مرکزی کردار 69 سالہ ارب پتی سرمایہ کار جیفری اپسٹن نے نیویارک کے جیل میں خود کشی کرلی تھی۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کئی سال تک کم عمر لڑکیوں سمیت درجنوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے سمیت انہیں نہ صرف جنسی غلام بنائے رکھا بلکہ انہیں اپنے دوستوں اور مہمانوں کی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی استعمال کیا۔
ان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے جن کم عمر لڑکیوں کو کئی سال تک جنسی غلام بنائے رکھا بعد ازاں انہوں نے ان لڑکیوں کو عمر رسیدہ ہونے پر نئی لڑکیوں کو ان کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھرتی کرنے کے لیے مجبور کیا۔برطانوی سپر ماڈل ناؤمی کامپبیل نے اعتراف کیا کہ وہ ارب پتی جیفری اسپٹن کو جانتی تھیں، تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ ان کے کرتوتوں سے بھی باخبر تھیں۔
سپر ماڈل کے مطابق وہ خواتین کو جنسی غلام بنا کر رکھنے والے ارب پتی سرمایہ کار سے 18 سال قبل اپنی 31 ویں سالگرہ پر ملی تھیں، تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ غلط کام بھی کرتے ہیں۔ماڈل کا کہنا تھا کہ انہیں ارب پتی سرمایہ کار سے ان کے سابق بوائے فرینڈ نے ملوایا تھا اور وہ اس بات پرشکر ادا کرتی ہیں کہ وہ جیفری اپسٹن کی بربریت سے محفوظ رہیں۔
ناؤمی کامپبیل کے مطابق خود کشی کرنے والے ارب پتی سرمایہ کار نے ان کے ساتھ کوئی بھی جسمانی فعل نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کوئی فحش پرفارمنس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ماڈل کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے سنا کہ ارب پتی سرمایہ کار خواتین کے ریپ اور انہیں جنسی غلام بنانے سمیت انہیں جسم فروشی کے لیے استعمال کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہے تو انہیں جھٹکا لگا اور انہیں ایک دم سے متاثرہ خواتین کی یاد آئی، ناؤمی کامپبیل نے جیفری اپسٹن کا نشانہ بننے والی خواتین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 23 اگست 2019

Share On Whatsapp