At This 400-Year-Old Temple, A Robot Priest Delivers Sermons

جاپان کے اس 400 سالہ قدیم معبد میں خطبہ دینے کی ذمہ داری روبوٹ نے سنبھال لی

جاپان کے 400 سالہ قدیم معبد میں خطبہ دینے کی ذمہ داری روبوٹ کے سپرد کر دی  گئی  ہے۔ بدھ مت کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ اس طرح اُن کے مذہب کا چہرہ تبدیل ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے اس روبوٹ  پجاری  پر کافی تنقید بھی  کی جا رہی ہے۔
کیوٹو کے کوڈائیجی معبد میں  یہ روبوٹ ، جسے مندر کا نام دیا گیا ہے، اپنے انسانی ساتھیوں کے ساتھ  کام کرتا ہے۔اندازہ ہے کہ  مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ایک دن یہ روبوٹ لامحدود   دانائی پا سکتا ہے۔


معبد کے ایک پجاری  ٹینشو گوٹو نے بتایا کہ  روبوٹ کبھی نہیں مرتے،  یہ اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ روبوٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ  یہ علم کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت سے   ان کی دانائی میں اضافہ ہوگا، انہیں امید ہے کہ ایک دن روبوٹ انسانوں کو درپیش مشکل مسائل بھی حل کر لیں گے، اس سے بدھ ازم بدل جائے گا۔

بالغ انسان کے قد جتنے اس  مندر روبوٹ نے اس معبد میں اس سال کے شروع میں اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کی تھیں۔ یہ روبوٹ اپنا اوپری دھڑ، بازو اور سر ہلا سکتا ہے۔اس کے ہاتھوں، چہرے اور کندھوں کو سیلیکون سے ڈھانپا گیا  ہے۔یہ روبوٹ اپنے ہاتھوں کو دعا مانگنے کے انداز میں جوڑ سکتا ہے۔اس کی بائیں آنکھ میں ایک چھوٹا سا کیمرہ نصب ہے۔
اس روبوٹ کی تیاری پر  تقریباً ایک ملین ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔ اسے زین معبد اور اوساکا یونیورسٹی کے مشہور روبوٹکس پروفیسر ہیروشی اشہیگورو  نے ایک مشترکہ پراجیکٹ کے  تحت بنایا ہے۔مندر انسانوں کو خواہشوں، غصے اور انا کے خطرات بتاتا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 15 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں