Company Allegedly Makes Employees Eat Live Fish, Drink Chicken Blood For Failing To Meet Goals

فروخت کا ہدف پورا نہ ہونے پر کمپنی نے ملازمین کو زندہ مچھلی کھلا کر مرغیوں کا خون پلادیا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

گوئیژو، چین میں ایک سیلز کمپنی  کو ان دنوں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کمپنی نے فروخت کے ہدف پورا نہ ہونے پر اپنے ملازمین کو غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا۔ کمپنی نے ملازمین کو زندہ مچھلی کھانے اور مرغیوں کا خون پینے پر مجبور کیا۔
گوئیژو کنسٹرکشن میٹریل سٹور کے ملازمین کو دی جانے والی سزا کی ویڈیو آن لائن وائرل ہوئی تو کمپنی پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

ویڈیو میں   دکھایا گیا ہے کہ کمپنی کے تقریباً دو درجن  ملازمین قطاروں میں کھڑے ہیں اور ایک شخص بالٹی میں سے کیچڑ میں رہنے والی مچھلی نکال کر انہیں  تقسیم کر رہا ہے۔ ملازمین کو ہدایات دی گئیں کہ مچھلی کو اس وقت تک چبائیں جب تک یہ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوجائے۔ویڈیو میں ملازمین کو ایک عجیب و غریب محلول پیتے بھی دکھایا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ ملازمین کو مرغیوں کا خون پینے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ویڈیو کے سامنے آنے  کے بعد  کمپنی کے ترجمان نے اس طرح کے واقعہ کا اعتراف تو کر لیا لیکن دعویٰ کیا کہ ملازمین نے اپنی مرضی سے اس میں شرکت کی تھی۔کمپنی کے ترجمان نے ایک اخبار  بیجنگ نیوز کو بتایا کہ  یہ واقعہ 4 اگست کو پیش آیا تھا۔ اس میں اُن 20 ملازمین نے شرکت کی تھی، جو اپنی فروخت کا ہدف پورا کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ملازمین نے سزا کی بجائے  مستقبل میں اچھی فروخت کی ترغیب کے لیے  خود ہی زندہ مچھلیاں کھائی اور مرغیوں کا خون پیا۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے بھی کمپنی کے موقف کی تائید میں لکھا کہ  ویڈیو میں نظر آنے والے بہت سے لوگ دوکاندار تھے جنہوں نے خود کو سزا دینے کے لیے زندہ مچھلی کھانے اور مرغیوں کا خون پینے کا فیصلہ کیا۔تاہم سوشل میڈیا صارفین اس بات سے متفق نہیں ہوسکے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مقامی لیبر ڈیپارٹمنٹ  نے رپورٹروں کو بتایا اکہ انہوں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم ماضی میں اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو کچھ زیادہ سخت سزائیں نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے  اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔


تاریخ اشاعت : جمعرات 15 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں