مودی کا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا غیرآئینی اقدام، بھارتی سپریم کورٹ بھی بے بس، ججوں کا حکم جاری کرنے سے گریز

بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر کے لاک ڈاؤن کے خلاف درخواست کی سماعت مودی سرکار کے دباؤ میں آکر 2 ہفتے کےلیے ملتوی کردی

نئی دہلی : مودی کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیرآئینی اقدام پر بھارتی سپریم کورٹ بھی بے بس، ججوں نے حکم جاری کرنے سے گزیر شروع کر دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر کے لاک ڈاؤن کے خلاف درخواست کی سماعت مودی سرکار کے دباؤ میں آکر 2 ہفتے کےلیے ملتوی کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈین کانگریس کے تحسین پوناوالا نے بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت آج سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ کے سامنےمتوقع تھی لیکن انتہا پسند مودی سرکار کے دباؤ میں آکر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس درخواست کی سماعت 2 ہفتے کےلیے ملتوی کردی ہے۔
اس درخواست کی سماعت جسٹس ارون مشرا، جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اجے رستوگی پر مشتمل تین رکنی بنچ کررہا ہے اور عدالت نے فوری حکم جاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال نازک ہے اور ہم فوری طور پر کسی قسم کا حکم جاری نہیں کرسکتے، کیس رجسٹرار کو دے دیں باری آنے پر دیکھیں گے۔واضح رہے کہ مذکورہ درخواست میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون، موبائل، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن چینلوں کی بندش اور دوسری پابندیاں ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
دوسری جانب بڑی غیر مسلم بھارتی ریاست نے علیحدگی اختیار کرنے اور 14 اگست کو پاکستان کیساتھ یوم آزادی منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ شورش زدہ بھارتی ریاست ناگا لینڈ کی حکومت نے اپنی وفاقی حکومت بنانے، بھارت سے الگ ہونے اور 14 اگست 2019 کو یوم آزادی منانے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کشمیر پر قبضہ کرنے والا اور پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 14 اگست 2019

Share On Whatsapp