نریندر مودی کے خلاف بات کرنا مشہور بھارتی فلم ڈائریکٹر کا قصور بن گیا

انوراگ کیشپ کے والدین اور بیٹی کو ہندوانتہا پسند غنڈوں نے قتل کی دھمکیاں دے ڈالیں

اسلام آباد : اس وقت نام نہاد سیکولر بھارت اپنی تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی جو گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے قاتل بھی ہیں، گزشتہ الیکشنز کے بعد سے ایک ڈکٹیٹر اور فاشسٹ حکمران کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں تنقید کا ایک لفظ سُننا بھی برداشت نہیں کرتے۔ اور اگر کوئی اُن کی مخالفت میں ذرا سا بھی کچھ بول دے تو مودی کے پالتو جنونی کارکن اُس کا جینا مشکل سے مشکل تر بنا دیتے ہیں۔
مودی کی انتہا پسندی کا تازہ ترین نشانہ اب کی بار مشہور فلم ساز انوراگ کشپ بن گئے ہیں۔ حالانکہ انوراگ کشپ مذہبی طور پر ہندو ہیں مگر اُن کی مودی کے بارے میں معمولی سی تنقید نے اُن کی اور ان کے گھر والوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ بھارتی فلمساز انوراگ کشپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ مودی مخالف موقف پر میرے والدین اور بیٹی کو دھمکیاں دی گئیں۔
اب عقل اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنا بھارت میں ممکن نہیں رہا۔انوراگ نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں مودی پر طنز کے تیروں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھگوں کی حکومت ہے اس لیے ٹھگ بن کے ہی زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس نئے بھارت پر تمام بھارتیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔خیال رہے کہ انوراگ کشپ کا شمار بھارت کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ 23 جولائی کو وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنی خصوصی مداخلت کریں۔
تاکہ دُنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی اور رُسوائی نہ ہو۔ انو راگ کیشپ گینگز آف وصی پور، نو اسموکنگ، میں ایسا ہی ہوں، پیسہ وصول اور ستیہ جیسی فلموں کی ڈائریکشن اور سکرپٹ رائٹنگ کی بنا پر بالی وڈ میں اپنا منفرد مقام بنا چکے ہیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 14 اگست 2019

Share On Whatsapp