ساڑھے تین لاکھ انتہا پسند ہندو کشمیر میں داخل ہو گئے، کشمیریوں کی نسل کُشی شروع

ان جنونی ہندوؤں کو سترہ فوجی مراکز میں ٹھہرایا گیا ہے، جو مسلمانوں کے قتل عام، گھر اور مساجد جلانے کی کارروائیوں میں حصّہ لیں گے ,

اسلام آباد : بھارت کی فاشسٹ مودی سرکار ایسے ایسے انسانیت مخالف ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہے، کہ جس کا تصور کر کے بھی انسانی رُوح کانپ اُٹھتی ہے۔ کشمیر سے مسلمان کشمیریوں کا صفایا کرنے کے لیے مودی سرکار نے ساڑھے تین لاکھ سے زائد ہندو انتہا پسند مقبوضہ کشمیر میں بھیج دیئے ہیں۔ ان ہندو دہشت گردوں کو مسلمانوں کے قتلِ عام، گھر اور مساجد جلانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ انہیں خصوصی طور پر ٹاسک دیا گیا ہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں 300 مندر بنائیں گے اور وہاں مسلمانوں کو بے گھر بھی کریں گے۔ ان جنونی ہندوؤں کا ہجوم رام ارجن، آکاش ملہوتر ا اور روی شنکر کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ ان دہشت گردوں کو باقاعدہ فوجی ٹریننگ کے علاوہ پٹرول بم اور دیگر چیزیں بنانے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ زیادہ تر ہندو فوجی مسلمانوں کے قتل عام کا کام بھارتی فوجیوں کی وردی میں کریں گے۔
تاہم اس سازش کا پتا چلنے کے بعد بھارت فوج کے تیرہ سِکھ فوجی افسران نے احتجاجاً کام کرنے سے انکار کر دیا ہے، ان میں بریگیڈئیر اروندر سنگھ، بریگیڈئیر رنجیت سنگھ اروڑہ ، کرنل آ گیا پال ، کرنل سورن سنگھ ، میجر ہرپال سنگھ و دیگر شامل ہیں، احتجاجاَ کشمیر سے واپس چلے گئے جس پر بھارتی فوج کے ہندو افسران نے ان کیخلاف فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔ دو کشمیر ی اخبارات نے بھی اس گھناؤنی سازش پر لکھا تو ان اخبارات کو بھارتی فوجیوں نے بند کرا دیا۔ان ہندو جنونیوں نے اپنے گھناؤنے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک تین آبادیوں کو یہ ہندو جنونی قتل و غارت کا نشانہ بنا چکے ہیں اور وہاں موجود کئی مساجد کو بھی نذر آتش کیا جا چکا ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 14 اگست 2019

Share On Whatsapp