حکومتی قرض کا حجم 31 ہزار785 ارب روپے تک پہنچ گیا

اس قرض میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرض اور ذٕمہ داریاں شامل نہیں، جون 2019ء تک اندورنی قرض 20 ہزار729 ارب اورجون 2018ء میں اندرونی قرض 16 ہزار 416 ارب روپے تھا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان

اسلام آباد : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ حکومتی قرض کا حجم 31 ہزار785 ارب روپے ہوگیا، اس قرض میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرض اور ذٕمہ داریاں شامل نہیں،جون 2019ء تک اندورنی قرض 20 ہزار729 ارب اورجون 2018ء میں اندرونی قرض 16 ہزار 416 ارب روپے تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ رواں سال جون کے آخرمیں حکومت کے قرض کا حجم 31 ہزار785 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
جبکہ اس قرض میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرض اور ذٕمہ داریاں شامل نہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ جون 2019ء تک مرکزی حکومت کا اندورنی قرض 20 ہزار729 ارب روپے رہا۔ اسی طرح جون 2018ء میں اندرونی قرض 16 ہزار 416 ارب روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ جون 2019ء تک پاکستان کے طویل المدتی قرض کا حجم 15ہزار229 ارب روپے رہا۔ جون 2018ء میں طویل المدتی قرض کا حجم 7 ہزار527 ارب روپے تھا۔
جون 2019ء تک بیرونی  قرض کا حجم 11ہزار55 ارب روپے رہا۔ جون 2018 تک پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 7 ہزار 795 ارب روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جون2019ء تک مرکزی حکومت نے11 ہزار183 ارب روپے کے بانڈزجاری کیے۔ جون 2018ء میں مرکزی حکومت نے3800 ارب روپے کے بانڈز جاری کیے تھے۔ جون 2019ء تک 10 ہزار 933 ارب روپے کے سرمایہ کاری بانڈز جاری کیے گئے۔ جون 2018 تک  جاری کیے گئے سرمایہ کاریہ بانڈز کا حجم 34 ہزار133 ارب روپے تھا۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام شیڈولڈ بینکوں کو ہدائت کی ہے کہ وہ عیدالاضحی کے ایام میں اپنے اپنے بینکوں کی اے ٹی ایم برانچز میں نصب اے ٹی ایم مشینوں میں کرنسی کا وافر سٹاک موجود رکھیں تاکہ اے ٹی ایم مشینیں استعمال کرنے والے بینکوں کے کھاتہ داران کو عیدالاضحی کے ایام میں رقم نکلوانے میں کسی قسم کی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے نیز تمام بینکوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اے ٹی ایم مشینوں کی ورکنگ بھی چیک کرتے رہیں ورنہ کوئی مشین بند ہونے پرا ن کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سٹیٹ بینک کے ذرائع نے بتا یا کہ مختلف بینکوں کے کھاتہ داران کی جانب سے سٹیٹ بینک کے مجاز حکام کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ گذشتہ عید کے موقع پر اکثر بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں میں کرنسی ختم ہو گئی تھی جبکہ کئی مشینیں آئوٹ آف آرڈر بھی تھیں جس کے باعث اے ٹی ایم صارفین کو عید کے ایام میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اپنے اہم معمولات کی سرانجام دہی میں بھی سخت دشواری پیش آئی۔
انہوںنے بتا یا کہ تمام بینکوں کے حکام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اے ٹی ایم مشینوں کی ورکنگ کو چیک کریں اور چھٹیوں کے دوران بھی اے ٹی ایم مشینوںمیں وافر کرنسی موجود رکھی جائے۔ انہوںنے کہا کہ اس ضمن میں کسی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : اتوار 11 اگست 2019

Share On Whatsapp