مالکان کو پیشاب مِلا کھانا کھلانے والی خادمہ کو قید اور کوڑوں کی سزا سُنا دی گئی

غیر مُلکی ملازمہ کا کہنا تھا کہ اُس کے مالکان اُسے ظلم و ستم کا نشانہ بناتے تھے

دمام : دمام میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے سعودی مملکت کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دمام کی ایک سعودی فیملی کے پاس کام کرنے والی غیر مُلکی ملازمہ اُنہیں کھانے میں کئی بار اپنا پیشاب مِلا کر دیتی رہی۔ سعودی عدالت نے ملزمہ کو اس شرمناک حرکت پر اٹھارہ ماہ قید اور 300 کوڑوں کی سزا سُنا دی۔ جبکہ اس کی سزا کی مُدت پُوری ہونے کے بعد اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا اور آئندہ کے لیے مملکت میں داخلے پر تاحیات پابندی عائد ہو گی۔
مقامی اخبارات کے مطابق غیر مُلکی خادمہ کو کھانا پکانے کے لیے ملازمت پر رکھا گیا تھا۔ وقوعے کے روز اس نے کسی بات پر طیش میں آ کر مالکان کے لیے تیار کیے گئے کھانے میں اپنا پیشاب بھی شامل کر دیا۔ جب گھر کے افراد کھانا کھا رہے تھے تو انہیں سالن میں سے انتہائی ناگوار بدبو اور ذائقے کا احساس ہوا۔ ایسا احساس انہیں پہلے بھی کئی بار پہلے ہو چکا تھا۔
مالک نے ملازمہ سے پُوچھا کہ سالن میں سے عجیب و غریب سی بدبو کیوں آ رہی ہے، تو اس نے جواب میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ کھانا کھانے کے بعد مالکن کسی کام سے کچن میں گئی تو وہاں اُسے ایک نُکر میں سے پیشاب کی بو آئی۔ جب اس نے وہاں جا کر دیکھا تو پیشاب سے آدھی بھری بوتل نظر آئی۔ جس سے اُس کی سمجھ میں ساری بات آگئی۔ مشتعل گھر والوں نے خادمہ کو بُلا کر اس سے سختی سے بات کی تو بالآخر اس نے اُن کے کھانے میں پیشاب ملانے کی اس غلیظ حرکت کا اعتراف کر لیا۔
جس کے بعد اُسے فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ملازمہ نے پولیس کی تفتیش کے دوران بتایا کہ مالک اور اس کے گھر کے دوسرے افراد اُس سے بُرا سلوک کرتے تھے، جس کی وجہ سے اُس نے متعدد بار اُن کے کھانے اور چائے میں اپنا پیشاب مِلا کر انہیں دِیا تھا۔ حتیٰ کہ وہ لیکویڈ سوپ کی بوتل میں بھی اپنا پیشاب شامل کرتی رہی۔ گھر والے اس بات سے کافی عرصہ تک بے خبر رہے تھے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 9 اگست 2019

Share On Whatsapp