مسلہ کشمیر پر بھارت کی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ‘پاکستان کا سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ

مقبوضہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ متنازع علاقہ ہے، اس پر سلامتی کونسل کی بہت سی قراردادیں موجود ہیں.شاہ محمود قریشی

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کےخلاف سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا ہے. اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 28 ممالک کو کشمیر کے حوالے سے تشویش سے آگاہ کردیا اور انہیں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا ہے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے اصرار کیا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور اس لیے ختم کیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی فلاح و بہبود کی جاسکے تو پاکستان کو اس پر اعتراض کیوں ہے.
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا یہ تاثر درست نہیں ہے اور پاکستان اس موقف کو مسترد کرتا ہے مقبوضہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ متنازع علاقہ ہے، اس پر سلامتی کونسل کی بہت سی قراردادیں موجود ہیں جنہیں بنیاد بنا کر ہم نے دوبارہ سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا ہے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت تاثر دے رہا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کا اندرونی معاملہ ہے جو کہ تاریخی، قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے اور پاکستان اسے مسترد کرتا ہے.
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا کہنا ہے کہ انہوں نے کشمیریوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے‘انہوں نے کہا کہ بھارتی ہم منصب جے شنکر سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا 70 سال پہلے اور جب سے یہ آرٹیکل 370 ان کے آئین میں شامل کی گئی تھی کیا اس وقت فلاح و بہبود کے کاموں میں قدغن تھی، کوئی پابندی یا ممانعت تھی جو اس ممانعت کو ختم کرنے کے لیے آئین میں یہ ترمیم کرنی پڑی.
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ کشمیریوں کو حراست میں لے کر پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل کی شکل دے کر سماجی و اقتصادی بہبود کا یہ پہلا قدم بھارت نے اٹھایا ہے. وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا خدشہ ہے اس وقت یہ صورتحال ہے کہ 9 لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں تعینات ہیں یعنی ہر گھر کے باہر ایک سپاہی تعینات ہے کیا یہ بھی اس فلاح و بہبود کا اقدام ہے.
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ یہ اندرونی معاملہ ہے لیکن بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے بھی کہا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ اس کےعوام کی خواہش کے مطابق ہوگا. وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے اس مسئلے پر بات چیت ہوئی انہوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے اور چاہتے ہیں کہ کشمیر میں کشیدگی میں نہ بڑھے جس پر میں نے کہا آپ دیکھیں کہ یہ کشیدگی کس وجہ سے بڑھی ہے.
انہوں نے کہا کہ فیڈریکا موگرینی نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی خواہش ہے یہ مسئلہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے کب مذاکرات سے انکار کیا ہے، ڈائیلاگ سے کون کترا رہا ہے پاکستان یا بھارت، جب بھی ڈیڈلاک آیا ہے ہم نے اسے حل کرنے کی کوشش کی ہے. وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو پاکستان کی طرف سے اجازت ہے، بھارت سے پوچھ لیں کیا وہ تیار ہے.

تاریخ اشاعت : جمعرات 8 اگست 2019

Share On Whatsapp