Influencers Have Been Swimming In A Toxic Dump Lake For Instagram

انسٹاگرام کی مؤثرشخصیات روس کی زہریلی جھیل میں تصویریں بنوانے لگی


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_instagram' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_instagram' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
انسٹاگرام کی بہت سی  مؤثر شخصیات حیران کن تصاویر بنوانےکے لیے  ہر حد سے گزر جاتی ہیں۔ آج کل بہت سے لوگ روس میں واقع ایک خوبصورت جھیل  پر جا کر تصاویر بنا رہے ہیں۔اس جھیل کی خوبصورتی  قدرتی نہیں بلکہ اس کے قریب واقع تھرمل پاور سٹیشن کی مرہون منت ہے۔
یہ تھرمل پاور سٹیشن  نقصان دہ راکھ اور دوسرا زہریلا مادہ اس جھیل میں ٹھکانے لگاتا ہے۔
اس جھیل کے پانی  کا نیلا رنگ، جو بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے،  وہ میٹل آکسائیڈ اور کیلشیم سالٹ کی وجہ سے ہے، جو اس جھیل کے پانی میں حل ہو جاتے ہیں۔روسی پاور پلانٹ، جو اس جھیل کا مالک بھی ہے، لوگوں کو تصویر بنوانے کے لیے  اس جھیل میں نہانے سے منع کرتا ہے۔
سائبیرین جنریٹنگ کمپنی نے آن لائن خبردار کیا ہے کہآپ راکھ کے ڈھیر میں  تیراکی  نہیں کر سکتے۔
اس میں موجود پانی میں الکلائن  کی سطح بہت زیادہ ہے۔ اس  کے پانی کے جلد کو چھونے سے  الرجی کا ردعمل ہو سکتا ہے۔پاور سٹیشن کا کہنا ہے کہ  اس جھیل کی تہہ کیچڑ سے لت پت ہے، جس میں پھنس کر نکلنا  ناممکن ہے۔
اس جھیل میں تصویر بنوانے کے خواہشمند  ہر خطرے کی پرواہ کیے بغیر اس جھیل میں  تصویریں بنوانے ہیں۔ ایک شخص کا کہنا ہے کہ  انہیں اس جھیل میں تیراکی کرنا خطرناک نہیں لگتا۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں تیراکی کرنے کے بعد اُن کی  ٹانگیں سرخ ہو گئیں اور ان میں دو دن تک خارش ہوتی رہی، اس کے بعد سب ٹھیک ہوگیا۔ اُن کا کہنا  ہے کہ اس قیمت پر اس جھیل میں تصویریں بنوانا برا سودا نہیں ہے۔
انسٹاگرام پر ایک اکاؤنٹ ایسا بھی ہے، جو اس جھیل پر تصویریں بنوانے والوں  کو تلاش کرتا ہے۔ اس اکاؤنت نے انسٹاگرام پر ابھی تک 200 ایسے افراد کو تلاش کیا ہے، جو اس جھیل پر تصاویر بنوا چکے ہیں۔


تاریخ اشاعت : پیر 15 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں