نیب وائٹ کالر کرائم کے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے،

, نیب افسران پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو دوگنا کرکے اپنے مقصد کے حصول کیلئے پرعزم ہیں , قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کا اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ : قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب وائٹ کالر کرائم کے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے، نیب افسران پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو دوگنا کرکے اپنے مقصد کے حصول کیلئے پرعزم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب کی ماہانہ کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژن شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو قانون اور ایس او پیز کے مطابق احتساب عدالتوں، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں نمٹانے کیلئے تمام علاقائی بیوروز اور آپریشن ڈویژن سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کی ہدایات پر تجربہ کار قانونی ماہر، کنسلٹنٹس اور خصوصی پراسیکیوٹرز شامل کرکے پراسیکیوشن ڈویژن کو فعال بنایا گیا ہے، شہادتوں کو جمع کرنے کیلئے جامع طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے نتائج حوصلہ افزاء رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تفصیلی غوروخوض کے بعد پراسیکیوشن ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ احتساب عدالتوں میں نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جو کہ بہترین سزا کی شرح ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیب نے میگا کرپشن اور وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انویسٹی گیشن اور متعلقہ احتساب عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جو کہ ایک مشکل ہدف ہے تاہم سخت محنت کے ذریعے پاکستان کو قانون کے مطابق کرپشن فری بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے تمام علاقائی بیوروز اور نیب ہیڈ کوارٹرز میں لائبریریاں بھی قائم کی ہیں تاکہ نیب پراسیکیوٹرز اور نیب افسران مقدمات کو قانون کے مطابق تیزی نمٹانے کیلئے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدمات کی تیاری کیلئے ریسرچ آفیسر بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ نیب ہیڈ کوارٹرز میں ای لائبریری بھی قائم کی گئی ہے جس میں لاء جرنلز، گذشتہ سالوں کی رپورٹس اور ماہانہ لاء رپورٹس سمیت 500 الیکٹرانک بکس دستیاب ہیں۔ نیب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی لائبریری تک رسائی کا ارادہ رکھتا ہے جس سے مستقبل میں نیب کے پراسکیوٹر مستفید ہوں گے۔
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کے تمام شعبوں آپریشن، پراسیکیوشن، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، آگاہی اور تدارک کے مجموعی طریقہ کار اور ادارہ جاتی خامیوں اور خوبیوں کے تفصیلی تجزیہ کے بعد اصلاحات کے ذریعے انہیں فعال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی کارکردگی کے مؤثر جائزہ کیلئے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کا نظام وضع کیا ہے جس سے نیب ہیڈ کوارٹرز اور علاقائی بیوروز کی معیاری اور مقداری بنیادوں پر کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے، یہ نظام تمام علاقائی بیوروز سمیت نیب کے تمام ڈویژنز کی کارکردگی کا مزید بہتر بنانے کیلئے اہم ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب شفافیت اور پیشہ واریت پر عمل کرنے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوششوں کے باعث سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق نیب کی کوششوں کے باعث پاکستان کرپشن پرسپشن انڈیکس میں 175 میں سے 116ویں نمبر پر ہے، پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp