اگر نندی پور ریفرنس میں کرپشن ہوئی تو صرف بابر اعوان کو بری کیوں کیا گیا؟

ایک کیس میں دومختلف فیصلے سوالیہ نشان ہیں۔ قمر زمان کائرہ نے نندی پور ریفرنس میں بابر اعوان کی بریت پر سوالات اٹھا دئیے

اسلام آباد : : پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے نندی پور ریفرنس میں بابر اعوان کی بریت کے معاملے پر رد عمل دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ نندی پور ریفرنس کے ایک کیس میں دومختلف فیصلے سوالیہ نشان ہیں۔بابر اعوان کی بریت اور راجہ پرویز اشرف کا ٹرائل بظاہر متنازع فیصلہ ہے۔نندی پور ریفرنس میں سے عمران خان نے بابر اعوان کو مکھن سے بال کی طرح نکال لیا۔
جب تک بابر اعوان پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے تب تک ان کا ٹرائل ہوتا رہا۔چئیرمین نیب نے کہا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کے خلاف کیسز کھلے تو حکومت گر جائے گی۔کیا ویڈیو سیکنڈل لا کر پی ٹی آئی نیب کو بلیک مل کر رہی ہے؟۔کرپشن کیسز میں حکومتی ارکان کو بری جب کہ اپوزیشن ارکان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔اگر نندی پور ریفرنس میں کرپشن ہوئی تو صرف بابر اعوان کو بری کیوں کیا؟۔
واضح رہے احتساب عدالت نے سابق وزیر قانون اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر بابر اعوان کو نندی پور پاور ریفرنس میں بری کردیا ہے۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے منگل کو بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان اور جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی بریت کی درخواستیں منظور کیں جبکہ باقی تین ملزمان سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، شمائلہ محمود اور ریاض محمود کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔
ریفرنس میں نامزد 7 ملزمان میں سے پانچ ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کی تھیں جب کہ ملزم شاہد رفیع اور مسعود چشتی کی جانب سے بریت کی درخواست دائر نہیں کی گئی تھی۔ عدالت نے چار ملزمان راجہ پرویز اشرف، شمائلہ محمود، ریاض محمود اور جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی درخواستوں پر فیصلہ گزشتہ روز محفوظ کیا تھا جبکہ ڈاکٹر بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ 26 اپریل کو محفوظ کیا گیا تھا۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp