امیر ترین امریکی شہریوں کا خود پر عائد دولت ٹیکس کی شرح میں اضافے کا مطالبہ

معاشی عدم مساوات سے معاشرے میں بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے، ممکنہ صدارتی امیدواروں کے نام کھلا خط , موجودہ سسٹم کے تحت میرا سیکرٹری مجھ سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے، 90 ارب ڈالر کے مالک وارن بوفے کا انکشاف

واشنگٹن : امریکا کے امیر ترین شہریوں نے معاشی عدم مساوات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے امیر طبقہ پر عائد دولت ٹیکس کی شرح میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دولتمند امریکی شہری جن میں ممتاز سرمایہ کار جارج سوروس، فیس بک کے شریک بانی کرس ہگیز اور ارب پتی چارلی منگر کی بیٹی مولی منگر بھی شامل ہیں نے امریکا کے ممکنہ صدارتی امیدواروں کے نام ایک کھلے خط میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے امیر طبقہ پر عائد دولت ٹیکس کی شرح میں اضافے کے لئے درکار قانون سازی کی حمایت کریں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ہم سے مزید دولت ٹیکس وصول کرے۔انہوں نے کہا کہ خط لکھنے والے امریکی شہری کسی مخصوص صدارتی امیدوار کی حمایت نہیں کر رہے۔ویلتھ ٹیکس ماحولیاتی بحران کے حل میں پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، ملکی معیشت کو بہتر بنا سکتا ہے، صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لا سکتا ہے، عام شہریوں کے لئے مواقع پیدا کرسکتا ہے اور ہماری جمہوری آزادیوں کو استحکام دے سکتا ہے اور اس طرح دولت ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہماری مملکت کے مفاد میں ہے۔
ممکنہ امریکی صدارتی امیدواروں کے نام اس کھلے خط پر دستخط کرنے والوں میں والٹ ڈزنی خاندان کا ایک فرد اور حیات ہوٹل چین کے مالکان بھی شامل ہیں۔ان میں سے کئی افراد پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کم کرنے اور معاشی عدم مساوات ختم کرنے کے لئے سرگرم ادارے چلا رہے ہیں یا ان کے لئے کام کر رہے ہیں۔خط میں اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ امیر ترین امریکی شخصیات میں شامل وارن بوفے جن کی دولت کا اندازہ 90 ارب ڈالر کے قریب ہے ،کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس سسٹم کے تحت ان کا سیکرٹری ان سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔
مذکورہ کھلا خط سامنے آنے کے بعد امریکی حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ صدارتی امیدوار ایلزبتھ ویرن نے کہا ہے کہ کامیابی کی صورت میں وہ 5 کروڑ ڈالر مالیت سے زیادہ اثاثوں کے مالک امریکی شہریوں پر دولت ٹیکس کی شرح میں اضافہ کریں گی جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 75ہزار ہے اور ان پر عائد ویلتھ ٹیکس کی شرح میں اضافے سے ٹیکس کی مد میں دس سال میں اندازاً 27.5 کھرب ڈالر کی اضافی رقم حاصل ہو گی۔خط میں کہا گیا ہے کہ معاشی عدم مساوات سے معاشرے میں بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ واضح رہے کہ کھلا خط لکھے والے اٹھارہ افراد میں سے سترہ کا تعلق امریکا کے امیر ترین خاندانوں سے ہے جبکہ ایک فرد نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp