پی ٹی آئی کی طرف سے اختر مینگل کو 5 ارب روپے کی پیشکش

بجٹ کے سلسلے میں ساتھ ملانے کے لیے اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو بھی ترقیاتی کاموں کے لیے کروڑوں روپے امداد پیش

اسلام آباد : :پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کا کہنا ہے کہ کہ ہفتہ گزر گیا لیکن قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر ابھی تک کوئی بحث شروع نہیں ہوئی جبکہ بجٹ منظور کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت غیر سیاسی اور ناتجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران نبیل گبول نے انکشاف کیا کہ بجٹ کےسلسلے میں ساتھ ملانے کے لیے اختر مینگل کو پی ٹی آئی کی طرف سے پانچ ارب روپے کی پیشکش کی گئی اسی طرح ایم کیو ایم کے نمائندوں کو کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے کروڑوں روپے کی ترقیاتی امداد کی پیش کی گئی ہے۔
انھوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے پیسے دینے کی پیشکش کو رشوت دینے سے تعبیر کیا۔خیال رہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہاہے کہ اگر حکمران جماعت کوبجٹ کی منظوری کیلئے ہماری حمایت درکار ہے تو اس سے قبل ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کرنا ہوگا ،یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں محض حکومتی یقین دہانیوں پر بجٹ میں ساتھ نہیں دیں گے پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگلنے کہاکہ بجٹ سیشن میں حکومت کی حمایت کیلئے اپنے مطالبات حکومت کو پیش کردئیے ہیں اگر حکومت ان مطالبات پر کسی حد تک عمل درآمد کردے تو حکومت کی حمایت کریں گے انہوں نے کہاکہ اس سے قبل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایم کیو ایم کی حمایت کے بدلے ان کے افراد کو جیلوں سے رہا کیا گیا تھا اگر حکومت کو ہماری حمایت چاہیے تو بلوچ قوم کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا ہوگا ایک صحافی کے سوال کے جواب میں سردار اختر مینگل نے کہاکہ محض حکومتی یقین دہانیوں پر بجٹ کی منظوری میں ساتھ نہیں دیں گے میں نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں جب تک حکومت کی جانب سے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں ہم ساتھ نہیں دیں گے ۔

تاریخ اشاعت : منگل 18 جون 2019

Share On Whatsapp