مولانا فضل الرحمن آئے گا اور ہمیں بچا لے گا۔ نوازشریف اور زرداری کی آخری امید

حکومتوں پر دباؤ لوگوں کے سڑکوں پر آںے سے پڑتا ہے اور یہ کام موجودہ صورتحال میں صرف مولانا فضل الرحمن کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لوگ سڑکوں پر لانے کے لیے "مدرسے" ہیں۔ رؤف کلاسرا

اسلام آباد : : معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اب مولانا فضل الرحمن کو ہی امیدوں کا واحد سہارا سمجھتے ہیں۔اپوزیشن جماعتیں سمجھتے ہیں کہ فلم کا ہیرو" مولانا فضل الرحمن" آئے گا اور ہمیں بچا لے گا۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس فلم کے مولاجٹ مولانا فضل الرحمن ہیں۔رؤف کلاسرا کا مزید کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی فارغ ہو چکی ہے۔
جب کہ شہباز شریف کی پاکستان آمد پر ان کا بھی کوئی خاص استقبال نہیں کیا گیا۔نواز شریف بھی آئے تو لوگ سڑکوں پر نہیں نکلے۔پاکستان میں جب تک لوگ سڑکوں پر نہ آئیں تب تک حکومت پر دباؤ نہیں بڑھتا،جیسے عمران خان ماضی میں لوگوں کو سڑکوں پر لائے۔لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی تو لوگوں کو باہر لانے میں ناکام رہی تو لوگ سڑکوں پر کون لائے گا؟۔
مولانا فضل الرحمن کے پاس لوگ سڑکوں پر لانے کے لیے "مدرسے " ہیں۔نواز شریف اور آصف زرداری کے پاس کارکن ہی نہیں رہے۔اگر عمران خان کسی کی وجہ سے مشکل میں آسکتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کسی سے بات چیت کر سکتی ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہیں۔جب کہ دوسری جانب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے لوگ اکٹھے کرنا میرا کام ہے لیکن دیگر جماعتوں کو میرا موقف اپنانا ہو گا۔
۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مہنگائی اور معیشت کو بنیاد بنا کر احتجاج کرنا چاہتی ہیں تاہم مولانا فضل الرحمن حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت گراؤ تحریک چلانا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہوا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا چاہئیے کیونکہ عوام مسائل کی بنیاد پر حکومتیں نہیں گرتیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 12 جون 2019

Share On Whatsapp