بچوں کے غذائی مسائل قومی نشوونما کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ماہرین

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کے زیر اہتمام ایک ڈائیلاگ میں بچوں، نو بالغان اور خواتین کو متاثر کرنے والی غذائی صورتِ حال کے موضوع پر بات چیت کی گئی۔ یہ ڈائیلاگ وزارتِ صحت (MNHSRC) حکومتِ پاکستان کے تعاون سے منعقد ہوا جہاں ملک میں بچوں اور خواتینکو درپیش غذائی مسائل اور ان کے حل کے لئے موجود مواقع کو منظرِ عام پر لایا گیا

اسلام آباد : اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کے زیر اہتمام ایک ڈائیلاگ میں بچوں، نو بالغان اور خواتین کو متاثر کرنے والی غذائی صورتِ حال کے موضوع پر بات چیت کی گئی۔ یہ ڈائیلاگ وزارتِ صحت (MNHSRC) حکومتِ پاکستان کے تعاون سے منعقد ہوا جہاں ملک میں بچوں اور خواتینکو درپیش غذائی مسائل اور ان کے حل کے لئے موجود مواقع کو منظرِ عام پر لایا گیا۔

ڈائیلاگ میں ہونے والی باہمی گفتگو میں جن معزز مہمانوں نے شرکت کی ان میں قومی اسمبلی کی رکن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کنول شاذب، رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری وزارتِ صحت ڈاکٹر نوشین حامد، ڈاکٹر عبدالبصیر خان اچکزئی ڈائریکٹر نیوٹریشن وزارتِ صحت، محمد اسلم شاہین چیف آف نیوٹریشن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن، پلاننگ کمیشن وزارت برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصطلاح اور ڈاکٹر سبا شجاع،نیو ٹریشن آفیسر،یونیسف پاکستان بھی شامل تھے جو پاکستان میں غذائی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے منصوبے کے فوکل پرسن بھی ہیں۔


ڈائیلاگ کے شرکا? نے ملک میں اسٹنٹنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں (جن کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے) ہر 10 بچوں میں سے 4 بچوں کی غذائی مسائل کی وجہ سے نشو و نما رُک چکی ہے۔ ان بچوں کی نشو و نما میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ناقص اور نامکمل غذا ہے جو بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو و نما میں رکاوٹ بن کر نشو و نما کے طویل المیعاد مسائل کی اہم وجہ بنتی ہے۔
اس کے علاوہ عمر کے اسی حصے میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو کہ ایسی بیماریوں کو جنم دیتی ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں۔

نوبالغ لڑکیوں اور عورتوں میں غذائی قلت مستقبل میں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی بُری طرح متاثر کرتی ہے۔ 10 سے 19 سال کی ان بچیوں کی تعداد میں کمی لانے کی کوششیں بہت سست رو رہی ہیں جو وزن اور خون کی کمی کا شکار ہیں۔
نو بالغ بچیوں اور عورتوں کو ملنے والی غذا عام طور پر اس قدر غیر معیاری ہوتی ہے کہ وہ ان کی اہم غذائی ضروریات کو پورا نہیں کرتی اور نہ صرف ان کی صحت مند نشو و نما میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ مستقبل میں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی بھی صحت مند نشو و نما روک دیتی ہے۔

پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لئے فوری اور مکمل طور پر ماں کے دودھ پر مکمل انحصار لازم ہے۔
ماں کا دودھ نہ صرف نوملودبچوں میں غذائی قلت کو دور کرتا ہے بلکہ ان میں شرح اموات میں کمی لاتا ہے اور انہیں بہت سی غیر متعدی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ماں کا دُودھ بچوں کی ذہنی نشو و نما کو بھی یقینی بناتا ہے جو آگے چل کر ان کے تعلیمی عمل میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بچوں کو ماں کا دُودھ پلانے سے غربت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے، معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے اور عدم مساوات کا بھی خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔
یہ سب پائیدار ترقی کے اہداف میں شامل اور پاکستان ان اہداف کے حصول کا پابند ہے۔
 
غذائی ضروریات کو پورا کرنے والی صحت مند خوراک ماؤں کو بہت سے دائمی اور کہنہ بیماریوں سے بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ دودھ پلانے والی ماؤں کو بہتر غذا فراہم کرنا نومولود بچے کی صحت اور نشو و نما کو بھی یقینی بناتاہے۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہیپاکستان میں ہر 10 میں سے 4 مائیں 6 ماہ تک اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں جبکہ ماں کا دودھ بچوں کو غذائی مسائل اور بیماریوں سے بچانے کے لئے ناگزیر حد تک ضروری ہے۔
ڈائیلاگ میں شریک ماہرین کے علاوہ سامعین نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ بچوں کو ناقص و نامکمل نشو و نما اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جسمانی قوت کی کمی جیسے مسائل سے بچانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ڈائیلاگ میں ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا گیا کہ حکومتِ پاکستان اور اس کے ترقیاتی شراکت دار خاص طور پر یونیسف اہم غذائی اشاروں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے جن میں، دیگر اشاروں کے علاوہ، فوری اور مکمل بنیادوں پر ماں کا دودھ دینا، غذائی کمی کو پورا کرنا، نشو و نما میں رکاوٹ، جسمانی قوت اور خون کی کمی یعنی انیمیا شامل ہیں۔
ماہرین نے بچوں کی غذائی ضروریات اور خاص طور پر بازار میں موجود ماں کے دودھ کے متبادل فارمولا دودھ جیسے مسئلے پر قانون سازی کرکے اسے کسی قانونی ضابطہ کے تحت لانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 3 مئی 2019

Share On Whatsapp