چینی قونصل خانے پر حملے میں ’’را‘‘ ملوث ہے، کراچی پولیس چیف

, حملے کے ماسٹرمائنڈ اسلم عرف اچھوکی موت کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی، حملے میں ملوث 5 سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے،ڈاکٹر امیر شیخ , , کراچی سمیت پاکستان کا امن دشمن کو کھٹکتا ہے،شہر میں ہونے والے بڑے ایونٹس پر بھارت میں پریشانی ہو رہی ہے،پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی : کراچی پویس چیف ڈاکٹرامیر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ملوث ہے اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔ حملے کے ماسٹرمائنڈ اسلم عرف اچھوکی موت کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی، حملے میں ملوث 5 سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزموں میں بی ایل اے کے لوگ شامل ہیں جب کہ بی ایل اے کی کمان اس وقت بشیرزید کے پاس ہے۔
کراچی میں امن کی باتیں پوری دنیا میں ہو رہی تھیں، کراچی سمیت پاکستان کا امن دشمن کو کھٹکتا ہے۔ کراچی میں ہونے والے بڑے ایونٹس پر بھارت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ حملہ پاکستان اور چین کی دوستی میں دراڑ ڈالنے کی ناکام کوشش تھی۔یہ بات انہوںنے جمعہ کو ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی ۔اس موقع پر ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی اور ایس ایس پی ملیر عرفان بہادربھی موجود تھے ۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے بتایا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کی تحقیقات میں بہت سے نام سامنے آئے ہیں اور واقعے میں ملوث کئی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔حملے کے سہولت کار ملزمان مختلف وقتوں میں چینی قونصلیٹ میں آکر بیٹھ کر ریکی کرتے رہے ۔ ریکی کرنے والے ملزمان زیادہ تر ویزہ سیکشن میں آکر بیٹھتے تھے اور جائزہ لیتے تھے، حملہ آور ملزمان اگست سے نومبر تک کراچی آتے جاتے رہے ۔
کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی اسلم اچھو گروپ نے افغانستان میں کی تھی جبکہ سہولت کار گرفتار ملزمان میں عبداللطیف، حسنین، عارف عرف نادر، ہاشم عرف علی اور اسلم مغیری شامل ہیں۔ چینی قونصلیٹ پر حملے کے لیے اسلحہ بلوچستان سے ریلوے کے ذریعے لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی پہنچنے کے بعد اسلحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایک گھر میں رکھا گیا، گاڑی اوپن لیٹر پر تھی جس کی صورتحال سامنے ہے، چینی قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر پلان افغانستان میں بنا۔
حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو افغانستان میں مارا جا چکا ہے۔ اسلم اچھو نے پہلے بھی اپنی موت کا ڈرامہ رچایا تھا، جب تک اسلم اچھو کی لاش نہیں ملتی یقین نہیں کر سکتے۔ امان اللہ اسلم اچھو کا رشتے دار ہے، جس کو حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 3 کلاشنکوف، 3 دستی بم، 2 پستول، 2 راکٹ لانچر اور گولے، ڈیڑھ کلو بارودی مواد بھاری مقدار میں گولیاں، لانچ کا ایک گئیر بکس جس میں اسلحہ منتقل کیا گیا برآمد ہوئے ہیں۔
امیر شیخ نے کہا کہ واقعے میں کسی سیاسی پارٹی کا کنکشن نہیں ملا، واقعہ بی ایل اے نے سر انجام دیا، حملہ بھارتی اسپانسرڈ واقعہ تھا۔ جعلی اور 2، 2 شناختی کارڈ سے متعلق ایف آئی اے کو خط لکھ رہے ہیں، کالعدم بی ایل اے کو معمولی سمجھا جا رہا تھا۔ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ (بلوچستان لبریشن آرمی) بی ایل اے کو لیڈ آج کل بشیر زیب نامی دہشت گرد کر رہا ہے، واقعے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد تھا چینی قونصلیٹ عملے کو یرغمال بنائیں، بروقت کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام رہا۔ بلدیہ میں دہشت گردوں کو سہولت دینے کے لیے گھر اسلم کے نام پر لیا گیا، گھر کے حصول کے لیے عارف نام استعمال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے والے دن حملہ آور بلدیہ ٹاؤن میں عارف کے گھر سے آئے تھے، بی ایل اے کے کراچی اور بلوچستان کے لوگ اس میں ملوث تھے۔
چینی قونصلیٹ پر حملے کے ذریعے سی پیک کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ تھا، دہشت گردوں کا عالمی سطح پر پیغام دینا تھا کہ پاکستان غیر محفوظ ہے۔اے آئی جی کا کہنا تھا کہ ریلوے کے ذریعے اسلحہ بھیجا گیا، ریلوے حکام کو خط لکھ رہے ہیں کہ اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ بروقت ایکشن نہ لیا جاتا تو کراچی میں بڑا سانحہ ہوسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے اپنے نام مختلف رکھ کر جعلی شناختی کارڈ بنا رکھے تھے، ایک شخص نے اپنے 2، 2 شناختی کارڈ بنا رکھے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن کی باتیں پوری دنیا میں ہو رہی تھیں، کراچی سمیت پاکستان کا امن دشمن کو کھٹکتا ہے۔ کراچی میں ہونے والے بڑے ایونٹس پر بھارت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ حملہ پاکستان اور چین کی دوستی میں دراڑ ڈالنے کی ناکام کوشش تھی۔انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کا کراچی میں ایک اور دہشت گردی کا بھی منصوبہ تھا، دوسرے منصوبے سے پہلے دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔
دہشت گردوں کا ایک ساتھی ابھی گرفتار نہیں ہوا اسے بھی پکڑ لیں گے، دشمن کی کوشش ہے پاکستان امن والے فیز میں داخل نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ علی رضا عابدی کیس میں 2، 3 ڈائریکشن پر تفتیش جاری ہے، چینی قونصلیٹ پر حملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو 20 لاکھ انعام دیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں نے حملہ ناکام بناتے ہوئے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا جب کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 اہل کار اور 2 شہری بھی شہید ہوگئے تھے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 11 جنوری 2019

Share On Whatsapp