والدین کی جانب سے انکار پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں اہم چیلنج ہے، ڈبلیو ایچ او

نیویارک : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسس نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں لاپتہ بچے اور والدین کی جانب سے انکار کلیدی چیلنجز ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او ہیڈآفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان سے اس خطرناک وائرس کی منتقلی روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری نئے سال کی خواہش ہے کہ 2019 کے اختتام تک صفر پولیو ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بچے اور دنیا کے بچوں میں کچھ کم نہیں ہے، تاہم پولیو کے خاتمے میں ناکامی کا نتیجہ عالمی سطح پر بیماری کے پھیلاؤ کے طور پر نکلتا ہے اور ہر سال دنیا بھر میں 2 لاکھ سے زائد نئے کیسز آتے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے ہسپتال کے دورے اور صحت کے بجٹ کو دوگنا کرنے کے حکومتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوئے کہ صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی عزم موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی صحت کی دیکھ بھال میں بڑی سرمایہ کاری کرنی چاہیئے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں حکومتی منصوبہ بندی پائیدار ترقی کے مقاصد کے مطابق ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے مزید کہا کہ خاندانی مںصوبہ بندی اور 40 فیصد بچوں کی خوراک ایک بہت اہم مسئلہ ہے، ہم بچے کے ابتدائی 1000 روز بہت اہم ہیں اور پالیسیز میں اس پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او پاکستان میں اسٹنٹنگ اور غذائی قلت کے اہم مسئلے کو حل کرنے اور وزیر اعظم کے نیشنل ہیلتھ پروگرام پر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 9 جنوری 2019

Share On Whatsapp