باغیوں نے یمن کے الدريهمي ضلع میں گاؤں کی مسجد کو اپنی کمین گاہ میں تبدیل کردیا

حدیدہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین / وام / جمعہ ستمبر ) ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے معصوم شہریوں کے خلاف جرائم اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ باغیوں نے یمن کے الدريهمي ضلع میں ایک گاؤں کی مسجد کو اپنی کمین گاہ میں تبدیل کردیا ہے، جہاں سے عسکری کارروائیاں کی جارہی ہیں.

ملیشیا نے مسجد کے امام کے کمرے کو جلا دیا اورمسجد کی چھت اور میناروں پر ماہر نشانہ باز بیھٹا دیئے ہیں انہوں نے الجريبة نامی گاؤں کے باشندوں کو زبردستی نکال دیاہے.

یمن میں جائز حکومت کے خلاف اپنی بغاوت کے بعد سے، حوثی ملیشیا نے سینکڑوں مساجد اور قرآن کی تعلیم سیکھانے کے مراکزکو نشانہ بنایا ہے، کچھ پر گولہ باری کی اور دوسروں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا ہے.

دیگر واقعات میں حوثیوں نے پہلے مساجد میں لوٹ مار کی اور بعد میں انہیں دھماکہ سے اڑا دیا، جو مقدس مقامات کے تحفظ کے بارے میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، مذہبی مقامات کے احترام وتقدس کے خلاف یہ سنگین کارروائیاں عوامی جذبات کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے کی گئی ہیں اور یہ باغیوں کے زیر تسلط علاقوں میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوششوں کا حصہ ہے.

الجريبة گاؤں کے ایک رہائشی عبد اللہ حسن علی نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے امارات نیوز ایجنسی (وام) کو بتایا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے دیہات کے مکانات اور فصلوں پر حملہ کیا اور رہائشیوں کو جبری بے دخل کر دیا.

انہوں نے مزید کہا کہ باغی عرب اتحادی افواج کے گاؤں پہنچنے کی خبروں سے خوف زدہ تھے.

عرب اتحاد میں شامل متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ایک رکن نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے مسجد کے داخلی دروازے اور گاؤں کی سڑکوں پر باردوری سرنگیں بچھا رکھی تھیں، جن میں اکثر کو ناکارہ بنایا جاچکا ہے.

تاریخ اشاعت : جمعہ 21 ستمبر 2018

Share On Whatsapp